Surah Al Muzzammil Ayat 12 (73:12)
The Enshrouded One · Juz 29 · Makki
اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًا 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں اور بھڑکتی آگ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ۔
Tafseer (Urdu)
{ان لدینا انكالا: بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں کفار کے عذاب کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جھٹلایا ان کے لئے ہمارے پاس اخرت میں لوہے کی بھاری بیڑیاں ہیں جو کہ ذلیل کرنے اور عذاب دینے کے لئے ان کے پاوں میں ڈالی جائیں گی اور بھڑکتی آگ ہے جس میں انہیں جلایا جائے گا اور گلے میں پھنسنے والاکھانا ہے جو نہ حلق سے نیچے اترے گا اور نہ حلق سے باہر ا سکے گا اور ان چیزوں کے علاوہ ان کے لئے ایسا دردناک عذاب ہے جس کی حقیقت کوئی نہیں جان سکتا۔( جلالینالمزملتحت الایۃ: ۱۲-۱۳ ص۴۷۸ خازن المزمل تحت الایۃ: ۱۲-۱۳ ۴ / ۳۲۳ روح البیان المزمل تحت الایۃ: ۱۲-۱۳ ۱۰ / ۲۱۴ ملتقطا) کفار کے لئے تیار کئے گئے عذابات پڑھ کر مسلمان کو کیا کرنا چاہئے: قیامت کے دن کفار کے لئے تیار کئے گئے عذاب کے بارے میں پڑھ یا سن کر ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے دل میں اللہ تعالی کا خوف پیدا کرے یہی ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے ۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کسی قاری سے یہ ایت سنی ’’ان لدینا انكالا و جحیما‘‘ تو (اللہ تعالی کے خوف سے) اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر غشی طاری ہو گئی۔( کنز العمال کتاب الشمائل قسم الافعال باب شمائل الاخلاق ۴ / ۸۰ الجزء السابع الحدیث: ۱۸۶۴۰) مروی ہے کہ حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ روزے کی حالت میں تھےشام کے وقت جب ان کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا تو انہیں یہی ایت یاد ا گئی (اور اللہ کے خوف سے) انہوں نے کہا :کھانا اٹھا لو۔ دوسری رات کھانا پیش کیا گیا تو پھر یہی ایت یاد ا گئی اپ نے فرمایا:کھانا اٹھا لو۔ تیسری رات بھی اسی طرح ہوا تو حضرت ثابت بنانی رحمۃاللہ تعالی علیہ اور چند دیگر بزرگوں کو اس بات کی خبر دی گئی وہ تشریف لائے اور مسلسل حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ کو کھانے کا کہتے رہے یہاں تک کہ اپ نے ستو کا صرف ایک گھونٹ پیا۔( مدارک المزمل تحت الایۃ: ۱۳ ص۱۲۹۴) {یوم ترجف الارض و الجبال: جس دن زمین اور پہاڑ تھرتھرائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن زمین اور پہاڑ اللہ تعالی کی ہیبت اور جلال سے تھرتھرائیں گے اور پہاڑ اپنی سختی اور بلندی کے باوجود تھرتھرانے کی شدت کی وجہ سے ریت کا بہتا ہوا ٹیلہ ہوجائیں گے وہ قیامت کا دن ہوگا۔( روح البیان المزمل تحت الایۃ: ۱۴ ۱۰ / ۲۱۴-۲۱۵ خازن المزمل تحت الایۃ: ۱۴ ۴ / ۳۲۳ ملتقطا)