Surah Al Muzzammil Ayat 5 (73:5)
The Enshrouded One · Juz 29 · Makki
اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْكَ قَوْلًا ثَقِیْلًا 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{انا سنلقی علیك قولا ثقیلا: بیشک عنقریب ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالیں گے۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم عنقریب اپ پر ایک انتہائی عظمتجلالت اور قدر والا کلام نازل فرمائیں گے اور اس کی عظمت و جلالت کی وجہ یہ ہے کہ وہ رب العالمین کا کلام ہے لہذا اپ خود کو وہ عظیم بات قبول کرنے کے لئے تیار رکھیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عنقریب ہم آپ پر قرآن نازل فرمائیں گے جس میں احکامات اور ممنوعات ہیں جو کہ سخت تکلیف دہ اور شرعی احکام کے پابند (عام) لوگوں پر بھاری پڑیں گے (اس لئے اپ ابھی سے انہیں بھاری احکام کا عادی بنائیں )۔( خازن المزمل تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۳۲۲ مدارک المزمل تحت الایۃ: ۵ ص۱۲۹۲ ملتقطا) تیسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عنقریب ہم آپ پر ایسا کلام نازل فرمائیں گے جس کا نازل ہونا بہت بھاری ہے۔( تفسیر سمرقندی المزمل تحت الایۃ: ۵ ۳ / ۴۱۶) قران پاک کے نزول کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’لو انزلنا هذا القران على جبل لرایته خاشعا متصدعا من خشیة الله-و تلك الامثال نضربها للناس لعلهم یتفكرون‘‘(حشر:۲۱) ترجمہ کنزالعرفان: اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تم اسے جھکا ہوا اللہ کے خوف سے پاش پاش دیکھتے اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :’’اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم پر وحی نازل کی اور اس وقت اپ کی ران میری ران پر تھیمجھے اپنے اوپر اتنا بوجھ محسوس ہوا جس سے مجھے ڈر لگ گیا کہ کہیں میری ران ٹوٹ ہی نہ جائے۔ (بخاری کتاب الصلاۃ باب ما یذکر فی الفخذ ۱ / ۱۴۸)