Surah Al Muzzammil Ayat 6 (73:6)
The Enshrouded One · Juz 29 · Makki
اِنَّ نَاشِئَةَ الَّیْلِ هِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًاﭤ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک رات کو قیام کرنا زیادہ موافقت کا سبب ہے اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک رات کا اٹھنا وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان ناشئة الیل: بیشک رات کو قیام کرنا۔} یعنی رات سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا دن کی نماز کے مقابلے میں زبان اوردل کے درمیان زیادہ موافقت کا سبب ہے اور اس وقت قران پاک کی تلاوت کرنے اور سمجھنے میں زیادہ دل جمعی حاصل ہوتی ہے کیونکہ وہ وقت سکون اور اطمینان کا ہے شورو غل سے امن ہوتا ہے کامل اخلاص نصیب ہوتا ہے ریا کاری اور نمود و نمائش کا موقع نہیں ہوتا۔( خازن المزمل تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۳۲۲ ابن کثیر المزمل تحت الایۃ: ۶ ۸ / ۲۶۳ ملتقطا) {ان لك فی النهار: بیشک دن میں تمہیں ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بیشک دن میں تو اپ بہت سے کاموں میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے یک سوئی کے ساتھ عبادت نہیں ہو پاتی لہذا اپ رات کے اوقات کو اللہ تعالی کی عبادت کرنے اور اس سے مناجات کرنے کے لئے خاص رکھیں ۔( روح البیان المزمل تحت الایۃ: ۷ ۱۰ / ۲۱۰)