Surah Al Muzzammil Ayat 8 (73:8)
The Enshrouded One · Juz 29 · Makki
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاﭤ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اُسی کے بنے رہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر اسم ربك: اور اپنے رب کا نام یاد کرو۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اپ رات اور دن کے تمام اوقات میں اپنے رب عزوجل کا نام یاد کرتے رہیں چاہے وہ تسبیح اور کلمہ طیبہ پڑھنے سے ہو نماز ادا کرنے قرآن پاک کی تلاوت کرنے اور علم کادرس دینے کے ساتھ ہو ۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنی قرا ء ت کی ابتداء میں بسم الله الرحمن الرحیم پڑھیں ۔( روح البیان المزمل تحت الایۃ: ۸ ۱۰ / ۲۱۰ جلالین المزمل تحت الایۃ: ۸ ص۴۷۸ ملتقطا) یاد رہے کہ نماز کے علاوہ اگر قران پاک کی تلاوت سورت کی ابتدا سے کی جائے تو بسم الله پڑھنا سنت ہے اور اگر سورت کے درمیان سے تلاوت شروع کی جائے تو بسم الله پڑھنا مستحب ہے اور نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت کی تلاوت سے پہلے بسم الله پڑھنا سنت نہیں ۔ {و تبتل الیه تبتیلا: اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے بنے رہو۔} یعنی اللہ تعالی کی عبادت ایسی ہو کہ اس میں انقطاع کی صفت ہو کہ دل اللہ تعالی کے سوا اور کسی کی یاد میں مشغول نہ ہو اس کی عبادت کے وقت سب سے تعلق ختم ہو جائے اور صرف اسی کی طرف توجہ رہے۔ یاد رہے کہ اس ایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انسان نکاح کرنا چھوڑ دے اور سب سے ناطہ توڑ کر کسی جنگل غار یا ویران جگہ میں اللہ اللہ کرنا شروع کر دے کیونکہ یہ اسلام میں منع ہے جیسا کہ حضرت طاوس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اسلام میں نکاح نہ کرنا اور لوگوں سے کنارہ کش ہو کر عبادت کرنا منع ہے۔( مصنف عبد الرزاق کتاب الایمان والنذور باب الخزامۃ ۸ / ۳۸۹ الحدیث: ۱۶۱۴۰) حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا کہ نکاح نہ کرنے کے بارے میں اپ کی کیا رائے ہے تو اپ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: ’’کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا: ’’و لقد ارسلنا رسلا من قبلك و جعلنا لهم ازواجا و ذریة‘‘(رعد:۳۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور بچے بنائے۔ لہذا تم نکاح کرنے سے کنارہ کشی نہ کرو۔( مسند امام احمد مسند السیدۃ عائشۃ رضی اللہ عنہا ۹ / ۳۹۱ الحدیث: ۲۴۷۱۲) اور ایک روایت میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: ’’اے ہشام! نکاح کرنے سے کنارہ کشی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’لقد كان لكم فی رسول الله اسوة حسنة‘‘(احزاب:۲۱) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ اور بیشک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نکاح فرمایا اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی۔( مسند ابو یعلی مسند عائشۃ رضی اللہ عنہا ۴ / ۲۶۱ الحدیث: ۴۸۴۲)