Surah Al Mudassir Ayat 18 (74:18)
The Cloaked One · Juz 29 · Makki
اِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَ 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک اس نے سوچا اور دل میں کوئی بات ٹھہرالی ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی ۔
Tafseer (Urdu)
{انه فكر و قدر: بیشک اس نے سوچا اور دل میں کوئی بات ٹھہرا لی۔} شان نزول: جب یہ ایت ’’ حم(۱) تنزیل الكتب من الله العزیز العلیم‘‘ نازل ہوئی اورسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مسجد میں نماز کے دوران تلاوت فرمائی تو ولید نے اس ایت کو سنا اور اپنی قوم کی مجلس میں آکر اس نے کہا کہ خدا کی قسم !میں نے محمد(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) سے ابھی ایک کلام سنا ہے نہ وہ کلام آدمی کا ہے اور نہ جن کا خدا کی قسم! اس کلام میں عجیب شیرینی تازگی فوائد اور دل کشی ہےوہ کلام سب پر غالب رہے گا ۔ قریش کو اس کی ان باتوں سے بہت غم ہوا اور ان میں مشہور ہوگیا کہ ولید اپنے آبائی دین سے منحرف ہوگیا ہے۔ابوجہل نے ولید کو سمجھانے کا ذمہ لیااور اس کے پاس آکر بہت غمزدہ صورت بنا کر بیٹھ گیا۔ ولید نے کہا :تمہیں کیا غم ہے ابوجہل نے کہا :غم کیسے نہ ہو تو بوڑھا ہوگیاہے اور قریش تیرے خرچ کیلئے روپیہ جمع کردیں گے انہیں خیال ہے کہ تو نے محمد (مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کے کلام کی تعریف اس لئے کی ہے کہ تجھے ان کے دستر خوان کا بچا ہوا کھانا مل جائے۔ اس پر اسے بہت طیش آیا اور کہنے لگا کہ کیا قریش کو میرے مال و دولت کا حال معلوم نہیں ہے اور کیا محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) اور ان کے اصحاب نے کبھی سیر ہو کر کھانا بھی کھایا ہے جو ان کے دستر خوان پر کچھ بچے گا۔ پھر وہ ابوجہل کے ساتھ اٹھا اور قوم میں آکر کہنے لگا:تمہیں خیال ہے کہ محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) مجنون ہیں کیا تم نے ان میں کبھی دیوانگی کی کوئی بات دیکھی سب نے کہا: ہرگز نہیں ۔ولید کہنے لگا :تم انہیں کاہن سمجھتے ہو کیا تم نے انہیں کبھی کہانت کرتے دیکھاہے سب نے کہا: ہرگز نہیں ۔ ولید بولا: تم انہیں شاعر گمان کرتے ہو کیا تم نے کبھی انہیں شعر کہتے ہوئے پایا ہےسب نے کہا:ہرگز نہیں : ولید کہنے لگا: تم انہیں کذاب کہتے ہو کیا تمہارے تجربہ میں ایسا ہے کہ کبھی انہوں نے جھوٹ بولا ہوسب نے کہا: ہرگز نہیں اور قریش میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی سچائی اور دیانت ایسی مشہور تھی کہ قریش آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو امین کہا کرتے تھے۔ یہ سن کر قریش نے کہا :ولید!پھر بات کیا ہے تو ولید سوچ کر بولا کہ بات یہ ہے کہ وہ جادو گر ہیں تم نے دیکھا ہوگا کہ ان کی بدولت رشتہ دار رشتہ دار سے اورباپ بیٹے سے جدا ہوجاتے ہیں بس یہی جادو گر کا کام ہے اور جو قرآن وہ پڑھتے ہیں وہ دل میں اثر کر جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جادو ہے۔اس سے متعلق یہ ایات نازل ہوئیں ۔ چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی 8ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ ولید بن مغیرہ نے سوچا کہ وہ اس قران کے بارے میں کیا کہے جو اس نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سنا چنانچہ اس نے غوروفکر کر کے اپنے دل میں وہ کلام مرتب کر لیا جو اس نے قران کے بارے میں کہنا تھا ۔ اب فرمان الہی ہوتا ہے کہ اس پر لعنت ہو اس نے اپنے دل میں کیسی عجیب بات ٹھہرائی ہے ۔ پھراس پر لعنت ہو اس نے اپنے دل میں کیسی حیرت انگیزبات ٹھہرائی ہے۔پھر اس نے نظر اٹھا کر اپنی قوم کے چہروں کی طرف دیکھا۔پھر اس نے کسی چیز میں غور کرنے والے کی طرح تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا۔پھراس نے ایمان لانے سے پیٹھ پھیری اورتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنے کو اپنی بڑائی کے خلاف سمجھا۔پھر قران مجید کے بارے میں بولا: یہ تو وہی جادو ہے جو جادوگروں سے منقول چلتا ارہا ہے اوریہ کسی آدمی ہی کا کلام ہے۔یہ سن لے کہ جلد ہی اللہ تعالی اسے دوزخ میں دھنسادے گا۔(جلالین المدثر تحت الایۃ: ۱۸-۲۶ ص۴۸۰ خازن المدثر تحت الایۃ: ۱۸-۲۶ ۴ / ۳۲۹ ملتقطا)