Surah Al Qiyamah Ayat 34 (75:34)
The Resurrection · Juz 29 · Makki
اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتیرے لئے خرابی ہے پھر خرابی ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتیری خرابی ا ٓ لگی اب آ لگی۔
Tafseer (Urdu)
{اولى لك فاولى: تیرے لئے خرابی ہے پھر خرابی ہے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں اللہ تعالی نے ابو جہل کومخاطب کر کے فرمایا کہ تیرے لئے بے ایمانی کی حالت میں ذلت کی موت کی صورت میں خرابی ہے پھر قبر کی سختیوں کی صورت میں خرابی ہے پھر تیرے لئے مرنے کے بعد اٹھنے کے وقت مصائب میں گرفتار ہونے کی صورت میں خرابی ہےپھر جہنم کے عذاب کی صورت میں خرابی ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بطحا کی وادی میں ابوجہل کے کپڑے پکڑ کر اس سے فرمایا: ’’اولى لك فاولى(۳۴) ثم اولى لك فاولى‘‘ یعنی تیرے لئے خرابی ہے پھر خرابی ہے۔پھر تیرے لئے خرابی ہے پھر خرابی ہے۔ تو ابوجہل نے کہا :اے محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کیا تم مجھے دھمکاتے ہو !تم اور تمہارا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ مکہ کے پہاڑوں کے درمیان میں سب سے زیادہ مضبوطزور آور اور شوکت و قوت کا مالک ہوں ۔ (لیکن چونکہ قرآن کی خبر ضرور پوری ہونی تھی اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان ضرور پورا ہونے والا تھا اس لئے ایسا ہی ہوا اور) جنگ بدر میں ابوجہل ذلت و خواری کے ساتھ بری طرح مارا گیا۔( مدارک القیامۃ تحت الایۃ: ۳۴-۳۵ ص۱۳۰۴ خازن القیامۃ تحت الایۃ: ۳۴-۳۵ ۴ / ۳۳۷ ملتقطا) اس امت کا فرعون: ابو جہل کے بارے میں حدیث پاک میں ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر امت میں ایک فرعون ہوتا ہے اور میری امت کا فرعون ابوجہل ہے۔( مسند شاشی مسند عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ما روی ابوعبیدۃ بن عبد اللہ عن ابیہ ۲ / ۳۳۱ الحدیث: ۹۲۲)