Surah Al Insan Ayat 2 (76:2)
The Man · Juz 29 · Madani
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ﳓ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم نے آدمی کو ملی ہوئی منی سے پیدا کیا تاکہ ہم اس کا امتحان لیں توہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم نے آدمی کو پیداکیا ملی ہوئی منی سے کہ اسے جانچیں تو اُسے سنتا دیکھتا کردیا ۔
Tafseer (Urdu)
{انا خلقنا الانسان من نطفة امشاج: بیشک ہم نے آدمی کو ملی ہوئی منی سے پیدا کیا۔} ایت کے اس حصے میں اللہ تعالی نے انسانوں کی پیدائش سے متعلق اپنے قانون کو بیان فرمایا کہ اس نے آدمی کومردوعورت کی ملی ہوئی منی سے پیدا کیا جبکہ اللہ تعالی کی قدرت انسان کی پیدائش کے سلسلے میں اس ذریعے کی محتاج نہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کر دیاحضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کو بغیر ماں کے پیدا کر دیا اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بغیر باپ کے پیدا کر دیا۔ {نبتلیه: تاکہ ہم اس کا امتحان لیں ۔} یعنی جب ہم نے انسان کو پیدا کیا تو ا س وقت یہ ارادہ کیا کہ ہم اسے مکلف کر کے اپنے احکامات اورممنوعات سے اس کا امتحان لیں توہم نے اسے سننے والا دیکھنے والا بنا دیا تاکہ وہ دلائل کا مشاہدہ کر سکے اور آیات کو غور سے سن سکے ۔یاد رہے کہ یہاں انسان سے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد مراد ہے۔( مدارک الانسان تحت الایۃ: ۲ ص۱۳۰۵ روح البیان الانسان تحت الایۃ: ۲ ۱۰ / ۲۶۰ ملتقطا) {انا هدینه السبیل: بیشک ہم نے اسے راستہ دکھا دیا۔} ارشاد فرمایا کہ بے شک ہم نے ظاہری اور باطنی حواس عطا کرنے کے بعد انسان کودلائل قائم کرکے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ہدایت کا راستہ دکھا دیا اب چاہے وہ ایمان قبول کر کے شکر گزار بنے یا کفر کر کے ناشکری کرنے والا بنے۔( تفسیر کبیر الانسان تحت الایۃ: ۳ ۱۰ / ۷۴۱)