Surah Al Insan Ayat 9 (76:9)
The Man · Juz 29 · Madani
اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہم تمہیں خاص اللہ کی رضاکے لیے کھانا کھلاتے ہیں ۔ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان سے کہتے ہیں ہم تمہیں خاص اللہ کے لیے کھانا دیتے ہیں تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں مانگتے۔
Tafseer (Urdu)
{انما نطعمكم لوجه الله: ہم تمہیں خاص اللہ کی رضاکے لیے کھانا کھلاتے ہیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں فرمایا کہ اللہ تعالی کے نیک بندے ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں خاص اس غرض سے کھانا کھلاتے ہیں تاکہ ہمیں اللہ تعالی کی رضا حاصل ہو اور ہم تم سے کوئی بدلہ یا شکر گزاری نہیں چاہتے اور اس غرض سے کھانا کھلاتے ہیں کہ بیشک ہمیں اپنے رب عزوجل سے ایک ایسے دن کا ڈر ہے جس میں کافروں کے چہرے نہایت سخت بگڑے ہوئے ہوں گے لہذا ہم اپنے عمل کی جزا یا شکر گزاری تم سے نہیں چاہتے بلکہ ہم نے یہ عمل اس لئے کیا ہے تا کہ ہم اس دن خوف سے امن میں رہیں ۔( تفسیر کبیر الانسان تحت الایۃ: ۹ ۱۰ / ۷۴۸ مدارک الانسان تحت الایۃ: ۹-۱۰ ص۱۳۰۶ ملتقطا) کسی کے ساتھ بھلائی کرنے سے مقصود اللہ تعالی کی رضا حاصل کرناہو: اس سے معلوم ہوا کہ صرف اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لئے کسی کے ساتھ بھلائی کرنی چاہئے لوگوں کو دکھانااپنی واہ واہ چاہنا اور جس کے ساتھ بھلائی کی اس پر احسان جتانا یا اس کی طرف سے کوئی بدلہ حاصل کرنا مقصود نہ ہو۔ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’یایها الذین امنوا لا تبطلوا صدقتكم بالمن و الاذى-كالذی ینفق ماله رئآء الناس‘‘(بقرہ:۲۶۴) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر اپنے صدقے برباد نہ کردو اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھلاوے کے لئے خرچ کرتا ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و ما اتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند الله-و ما اتیتم من زكوة تریدون وجه الله فاولىك هم المضعفون‘‘(روم:۳۹) ترجمہ کنزالعرفان: اورجومال تم (لوگوں کو) دو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو تم اللہ کی رضا چاہتے ہوئے زکوۃ دیتے ہو تو وہی لوگ (اپنے مال) بڑھانے والے ہیں ۔