Surah Al Mursalat Ayat 8 (77:8)
The Emissaries · Juz 29 · Makki
فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب تارے مٹا دئیے جائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب تارے مَحْو کردئیے جائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{فاذا النجوم طمست: پھر جب تارے مٹا دئیے جائیں گے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات میں قیامت واقع ہونے کی علامات بیان کی جا رہی ہیں ۔ قیامت کی تین علامتیں : اس کی ایک علامت یہ ہے کہ اس دن ستاروں کو بے نور کر کے مٹا دیا جائے گا ۔قیامت کے دن ستاروں کی ایک اور حالت بیان کرتے ہوئے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا: ’’و اذا النجوم انكدرت‘‘(تکویر:۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و اذا الكواكب انتثرت‘‘(انفطار:۲) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔ دوسری علامت یہ ہے کہ اس دن آسمان اللہ تعالی کے خوف سے پھٹ جائیں گے اور ان میں سوراخ ہوجائیں گے۔قیامت کے دن اسمان پھٹنے کے بعد کی حالتیں بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پرارشاد فرمایا: ’’فاذا انشقت السمآء فكانت وردة كالدهان‘‘(رحمن:۳۷) ترجمہ کنزالعرفان: پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول جیسا (سرخ) ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و انشقت السمآء فهی یومىذ واهیة‘‘(حاقہ:۱۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور آسمان پھٹ جائے گا تو اس دن وہ بہت کمزورہوگا۔ تیسری علامت یہ ہے کہ اس دن پہاڑ غبار بناکے اڑا دئیے جا ئیں گے۔قیامت کے دن پہاڑوں کی اور حالتیں بیان کرتے ہوئے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ و ترى الجبال تحسبها جامدة و هی تمر مر السحاب ‘‘(نمل:۸۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا انہیں جمے ہوئے خیال کرے گا حالانکہ وہ بادل کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و بست الجبال بسا(۵) فكانت هبآء منبثا ‘‘(واقعہ:۵۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور پہاڑ خوب چورا چورا کردیئے جائیں گے ۔تووہ ہوا میں بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں گے۔