Surah An Naba Ayat 6 (78:6)
The Tidings · Juz 30 · Makki
اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ بنایا؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ کیا ۔
Tafseer (Urdu)
{الم نجعل الارض مهدا: کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ بنایا} اس ایت سے اللہ تعالی نے اپنی قدرت کے عجائبات میں سے چند چیزیں ذکر فرمائیں تاکہ کفار قریش ان کی دلالت سے اللہ تعالی کی توحید کو جانیں اور یہ سمجھیں کہ اللہ تعالی عالم کو پیدا کرنے اور اس کے بعد اس کو فنا کرنے اور فنا کرنے کے بعد پھر حساب اور جزا کے لئے پیدا کرنے پر قادر ہےچنانچہ اس ایت اورا س کے بعد والی10ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا’’ کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہ بنایا تا کہ تم اس پر رہو اور وہ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ ہواور کیا ہم نے پہاڑوں کو میخیں نہ بنایا تاکہ ان سے زمین ثابت اور قائم رہے اور کیا ہم نے تمہیں مرد اور عورت کے جوڑے نہ بنایا تاکہ تم ایک دوسرے سے سکون حاصل کرو اور معاشی و معاشرتی امور کا انتظام کرو اور کیا ہم نے تمہاری نیند کو تمہارے جسموں کے لئے آرام کا ذریعہ نہ بنایا تاکہ اس سے تمہاری کوفت اور تھکن دور ہو اور تمہیں راحت و ارام حاصل ہو اور کیا ہم نے رات کو ڈھانپ دینے والی نہ بنایا جو کہ اپنی تاریکی سے ہر چیز کو چھپادیتی ہے تاکہ تمہارے معاملات پوشیدہ رہیں اور کیا ہم نے دن کو روزگار کمانے کا وقت نہ بنایاتاکہ تم اس میں اللہ تعالی کا فضل اور اپنی روزی تلاش کرو اور کیا ہم نے تمہارے اوپر ایسے سات مضبوط اسمان نہ بنائے جن پر زمانہ گزرنے کا اثر نہیں ہوتا اور پرانا پن اور بوسیدگی ان تک راہ نہیں پاتی اور کیا ہم نے ان اسمانوں میں ایک نہایت چمکتا چراغ سورج نہ بنایاجس میں روشنی بھی ہے اور گرمی بھی اور کیا ہم نے بدلیوں سے زور دار پانی نہ اتارا تاکہ اس کے ذریعے زمین سے انسانوں کے کھانے کے لئے اناج جانوروں کے کھانے کے لئے سبزہ اور گھنے باغات نکالیں تو غور کرو کہ جس نے اتنی چیزیں پیدا کردیں وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کردے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے نیز ان چیزوں کو پیدا کرنا حکیم یعنی حکمت والے کا فعل ہے اور حکمت والے کا فعل ہر گز عبث اور بے کار نہیں ہوتا اور مرنے کے بعد اٹھنے اور سزا و جزا کے انکار کرنے سے لازم آتا ہے کہ انکار کرنے والے کے نزدیک تمام افعال بیکار ہوں حالانکہ یہ باطل ہے اور جب بیکار ہونا باطل ہے تومرنے کے بعد زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزا ملنے کا انکار کرنا بھی باطل ہے۔ اس مضبوط دلیل سے ثابت ہوگیاکہ مرنے کے بعد اٹھنا ہےاعمال کاحساب ہونا ہے اوران کی جزا ضرور ملنی ہے اور اس میں کوئی شک ہر گزنہیں۔(خازن النبا تحت الایۃ: ۶-۱۶ ۴ / ۳۴۶-۳۴۷ مدارک النبا تحت الایۃ: ۶-۱۶ ص ۱۳۱۳-۱۳۱۴ روح البیان النبا تحت الایۃ: ۶-۱۶ ۱۰ / ۲۹۳-۲۹۹ ملتقطا)