Surah An Naziat Ayat 3 (79:3)
Those who drag forth · Juz 30 · Makki
وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًا 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آسانی سے تیرنے والوں کی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور آسانی سے پیریں ۔
Tafseer (Urdu)
{و السبحت سبحا: اور آسانی سے تیرنے والوں کی۔} یعنی اوران فرشتوں کی قسم! جو (زمین اور اسمان کے درمیان) مومنین کی روحیں لے کر آسانی سے تیرنے والے ہیں ۔( تفسیر قرطبی النازعات تحت الایۃ: ۳ ۱۰ / ۱۳۶-۱۳۷ الجزء التاسع عشر) {فالسبقت سبقا: پھر آگے بڑھنے والوں کی۔} ارشاد فرمایا کہ پھران فرشتوں کی قسم جن کاوصف یہ ہے کہ وہ اپنی اس خدمت پر جلد پہنچتے ہیں جس پر وہ مقرر ہیں ۔ (روح البیان النازعات تحت الایۃ: ۴ ۱۰ / ۳۱۵) {فالمدبرت امرا: پھر کائنات کا نظام چلانے والوں کی۔ } یعنی پھر ان فرشتوں کی قسم!جو دنیا کے کاموں کا انتظام کرنے پر مقرر ہیں اور ان کاموں کو سر انجام دیتے ہیں ان تمام قسموں کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اے کفار مکہ ! تم ضرور دوبارہ زندہ کئے جاو گے اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ (بغوی النازعات تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۴۱۱) ہر کام وسیلے کے ذریعے ہونا اللہ تعالی کا قانون ہے: یاد رہے کہ اللہ تعالی کی قدرت تو یہ ہے کہ ہر چھوٹا بڑا کام کسی وسیلے کے بغیر خود اسی کے حکم سے ہو جائے لیکن قانون یہ ہے کہ کام وسیلے کے ذریعے ہو کیونکہ دنیا کا ہر کام کائنات کا نظام چلانے پر مقرر فرشتوں کے سپرد ہے۔ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض نام اللہ تعالی اور مخلوق کے درمیان مشترک ہیں جیسے علی سمیع بصیر انہیں میں سے مدبر بھی ہے کہ رب عزوجل بھی تدبیر فرمانے والا ہے اور فرشتے بھی مدبرات امر یعنی کاموں کی تدبیر کرنے والے ہیں ۔