Surah An Naziat Ayat 42 (79:42)
Those who drag forth · Juz 30 · Makki
یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاﭤ 42
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم سے قیامت کے بارے پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{یســٴـلونك عن الساعة: تم سے قیامت کے بارے پوچھتے ہیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی 4ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین قیامت اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں انے والی خبریں سنتے تھے تو انہوں نے مذاق کے طور پر اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے کہا کہ قیامت کب قائم ہو گی اللہ تعالی نے ان کفار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم مکہ کے کافر اپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب ظاہر ہو گی اور کس وقت قائم ہو گی اپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ اپ انہیں بتائیں کہ قیامت کب اور کس وقت واقع ہو گیقیامت ایسی چیز ہے کہ اس کے واقع ہو نے کے علم کی انتہاء اپ کے رب عزوجل تک ہے اور اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب واقع ہوگی۔ اپ کو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ اپ ان لوگوں کو قیامت کی ہولناکیوں اور سختیوں سے ڈرائیں جو ڈرانے سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور اپ کا ڈرانا اس بات پر موقوف نہیں کہ اپ کو قیامت واقع ہونے کا علم بھی ہو کیونکہ اس کے علم کے بغیر بھی اپ کی ذمہ داری پوری ہو سکتی ہے۔کافر جس قیامت کا انکار کر رہے ہیں عنقریب اسے دیکھ لیں گے اور گویا کہ جس دن کافر قیامت کو دیکھیں گے تو اس کی ہولناکی اور دہشت کی وجہ سے ان کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی زندگی کی مدت بھول جائیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ وہ دنیا میں صرف ایک رات یا ایک دن چڑھے کے وقت برابر ہی رہے تھے۔( تفسیرکبیرالنازعاتتحت الایۃ:۴۲-۴۶۱۱ / ۵۰-۵۱ مدارکالنازعاتتحت الایۃ:۴۲-۴۶ ص۱۳۲۰ ملتقطا) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو قیامت قائم ہونے کے وقت کا علم دیا گیا ہے: علامہ احمدصاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ’’ یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو قیامت واقع ہونے کے وقت کا علم نہیں دیا تھا لہذا یہ اس بات کے منافی نہیں کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم دنیا سے اس وقت تک تشریف نہیں لے گئے جب تک اللہ تعالی نے اپ کو دنیا اور اخرت کے تمام غیوب کا علم عطا نہیں فرمایا (اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کا کچھ چیزوں کی غیبی معلومات نہ بتانا اس بات کی دلیل نہیں کہ اپ کو غیب کا علم نہیں تھا کیونکہ) اپ کو (علم ہونے کے باوجود) کچھ باتیں چھپانے کا حکم تھا۔( صاوی النازعات تحت الایۃ: ۴۳ ۶ / ۲۳۱۲)