Surah Al Anfal Ayat 11 (8:11)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
اِذْ یُغَشِّیْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَ یُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ یُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَﭤ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیاد کرو جب اس نے اپنی طرف سے تمہاری تسکین کے لئے تم پر اونگھ ڈال دی اور تم پر آسمان سے پانی اتارا تاکہ اس کے ذریعے وہ تمہیں پاک کردے اور تم سے شیطان کی ناپاکی کو دور کردے اور تمہارے دلو ں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے قدم جمادے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین تھی اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرما وے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے۔
Tafseer (Urdu)
{اذ یغشیكم النعاس:یاد کروجب اس نے تم پر اونگھ ڈال دی۔} حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ غنودگی اگر جنگ میں ہو تو امن ہے اور اللہ عزوجل کی طرف سے ہے اور نماز میں ہو تو شیطان کی طرف سے ہے۔ جنگ میں غنودگی کا امن ہونا اس سے ظاہر ہے کہ جسے جان کا اندیشہ ہواسے نیند اور اونگھ نہیں آتی وہ خطرے اور اضطراب میں رہتا ہے ۔ شدید خوف کے وقت غنودگی آنا حصول امن اور زوال خوف کی دلیل ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ’’ جب مسلمانوں کو دشمنوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت سے جانوں کا خوف ہوا اور بہت زیادہ پیاس لگی تو ان پر غنودگی ڈال دی گئی جس سے انہیں راحت حاصل ہوئی تھکان اور پیاس دور ہوئی اور وہ دشمن سے جنگ کرنے پر قادر ہوئے۔ یہ اونگھ ان کے حق میں نعمت تھی ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ’’ یہ اونگھ معجزہ کے حکم میں ہے کیونکہ یکبارگی سب کواونگھ آئی اور کثیر جماعت کا شدید خوف کی حالت میں اس طرح یکبارگی اونگھ جانا خلاف عادت ہے۔( خازن الانفال تحت الایۃ: ۱۱ ۲ / ۱۸۲) {و ینزل علیكم من السمآء مآء:اور تم پر اسمان سے پانی اتارا ۔} غزوہ بدر کے دن مسلمان ریگستان میں اترے تو ان کے اور ان کے جانوروں کے پاوں ریت میں دھنسے جاتے تھے جبکہ مشرکین ان سے پہلے پانی کی جگہوں پر قبضہ کر چکے تھے ۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم میں سے بعض کو وضو کی اور بعض کو غسل کی ضرورت تھی اور اس کے ساتھ پیاس کی شدت بھی تھی۔ شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ تمہارا گمان ہے کہ تم حق پر ہو تم میں اللہ عزوجل کے نبی ہیں اورتم اللہ والے ہو جبکہ حال یہ ہے کہ مشرکین غالب ہو کر پانی پر پہنچ گئے اور تم وضو اور غسل کئے بغیر نمازیں پڑھ رہے ہو تو تمہیں دشمن پر فتح یاب ہونے کی کس طرح امید ہے شیطان کا یہ وسوسہ یوں زائل ہوا کہ اللہ تعالی نے بارش بھیجی جس سے وادی سیراب ہوگئی اور مسلمانوں نے اس سے پانی پیا غسل اور وضو کئے اپنی سواریوں کو پانی پلایا اور اپنے برتنوں کو پانی سے بھر لیا بارش کی وجہ سے غبار بھی بیٹھ گیا اور زمین اس قابل ہوگئی کہ اس پر قدم جمنے لگے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے دل خوش ہو گئے اور بارش کی نعمت کامیابی اور فتح حاصل ہونے کی دلیل ہوئی۔(تفسیر بغوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۱ ۲ / ۱۹۷)