Surah Al Anfal Ayat 32 (8:32)
The Spoils of War · Juz 9 · Madani
وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب انہوں نے کہا: اے اللہ اگر یہ (قرآن) ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب بولے کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ قالوا:اور جب انہوں نے کہا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے گزشتہ امتوں کے واقعات بیان فرمائے تو نضر بن حارث نے کہا: اگر میں چاہوں تو اس جیسے واقعات کہہ سکتا ہوں۔حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالی عنہ نے نضر بن حارث سے فرمایا: تو اللہ تعالی سے ڈر رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حق بات ارشاد فرماتے ہیں۔ نضر بن حارث نے کہا: میں بھی سچی بات کہتا ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: نبی اکرم ’’لا الـہ الا اللہ ‘‘کہتے ہیں۔ نضر بن حارث نے کہا: میں بھی ’’لا الـہ الا اللہ ‘‘ کہتا ہوں لیکن یہ بت اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ پھر نضر بن حارث نے دعا مانگی کہ اے اللہ! جو قرآن محمد(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) لائے ہیں اگر یہ ہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے ا۔ نضر بن حارث وہ بدبخت کافر ہے کہ جس کی مذمت میں قران پاک کی دس ایات نازل ہوئیں اور غزوہ بدر کے دن سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دست اقدس سے جہنم واصل ہوا۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۳۲ ۲ / ۱۹۲-۱۹۳) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ یہ دعا ابو جہل نے مانگی تھی۔(بخاری کتاب التفسیر باب واذ قالوا اللہم ان کان ہذا۔۔۔ الخ ۳ / ۲۲۹ الحدیث: ۴۶۴۸)