Surah Al Anfal Ayat 43 (8:43)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًاؕ-وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(اے حبیب! یاد کرو) جب اللہ نے یہ کافر تمہاری خواب میں تمہیں تھوڑے کر کے دکھائے اور اگر وہ ان کو زیادہ کرکے تمہیں دکھاتا تو اے مسلمانو! تم ضرور بزدل ہوجاتے اور تم ضرور معاملے میں اختلاف کرتے لیکن اللہ نے سلامت رکھا، بیشک وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب کہ اے محبوب اللہ تمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھو ڑا دکھاتا تھا اور اے مسلمانو اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے مگر اللہ نے بچا لیا بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{اذ یریكهم الله فی منامك قلیلا:(اے حبیب! یاد کرو) جب اللہ نے یہ کافر تمہاری خواب میں تمہیں تھوڑے کر کے دکھائے۔} یہ اللہ تعالی کی نعمت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کفار کی تعداد تھوڑی دکھائی گئی اور آپ نے اپنا یہ خواب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے بیان کیا تواس سے ان کی ہمتیں بڑھیں اور اپنے ضعف و کمزوری کا اندیشہ نہ رہا اور انہیں دشمن پر جرات پیدا ہوئی اور دل مضبوط ہوئے۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خواب حق ہوتا ہے آپ کو کفار تھوڑے دکھائے گئے تھے اور ایسے کفار جو دنیا سے بے ایمان جائیں اور کفر ہی پر ان کا خاتمہ ہو وہ تھوڑے ہی تھے کیونکہ جو لشکر مقابلے میں آیا تھا اس میں کثیر لوگ وہ تھے جنہیں اپنی زندگی میں ایمان نصیب ہوا اور خواب میں قلت کی تعبیر ضعف سے ہے چنانچہ اللہ تعالی نے مسلمانوں کو غالب فرما کر کفار کا ضعف ظاہر کردیا۔ (صاوی الانفال تحت الایۃ: ۴۳ ۳ / ۷۶۸)