Surah Al Anfal Ayat 52 (8:52)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَۙ-وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ 52
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجیسا فرعونیوں اور ان سے پہلوں کا طریقہ وہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے تھے تو اللہ نے ان کے گناہوں کے سبب انہیں پکڑلیا، بیشک اللہ بڑی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور وہ اللہ کی آیتوں سے منکر ہوئے تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ كداب ال فرعون:جیسا فرعونیوں کا طریقہ۔} اس سے پہلی ایتوں میں اللہ تعالی نے بدر کے میدان میں کفار کی ذلت امیز شکست اور اخرت میں ان کے لئے سخت عذاب تیار کرنے کا ذکر فرمایا جبکہ ان ایتوں میں اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا ہے کہ کفار قریش کو جو دنیا و اخرت میں عذاب دیا ہے وہ ان کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ تما م کفار اور سب منکروں کے ساتھ اللہ تعالی کا یہی طریقہ ہے۔ایت کا معنی یہ ہے کہ ان کافروں کی اپنے کفر وسرکشی میں عادت فرعون اور ان سے پہلوں کی طرح ہے تو جیسے فرعونیوں کو غرق کر کے ہلاک کیا اسی طرح یہ بھی غزوہ بدر کے دن قتل ا ور قید میں مبتلا کئے گئے۔ (تفسیر کبیر الانفال تحت الایۃ: ۵۲ ۵ / ۴۹۵) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’ ایت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح فرعونیوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کو یقین کے ساتھ جان لیا پھر بھی ان کی تکذیب کی یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کو جان پہچان کر تکذیب کرتے ہیں۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۵۲ ۲ / ۲۰۳)