Surah Al Anfal Ayat 75 (8:75)
The Spoils of War · Juz 10 · Madani
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓىٕكَ مِنْكُمْؕ-وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ (75)ٛ 75
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جواس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں (وراثت میں ) ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو بعد کو ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں اور رشتہ والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین امنوا من بعد:اور جواس کے بعد ایمان لائے۔ } یعنی اے مہاجرین و انصار! جو لوگ پہلی ہجرت کے بعد ایمان لائے اور انہوں نے تمہاری ہجرت کے بعد ہجرت کی اور کئی جنگوں میں انہوں نے تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا یہ بھی تمہیں میں سے ہیں ا ور تمہارے ہی حکم میں ہیں۔ (روح البیان الانفال تحت الایۃ: ۷۵ ۳ / ۳۸۰) مہاجرین کے طبقات: مہاجرین کے کئی طبقے ہیں ایک وہ ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ مدینہ طیبہ کو ہجرت کی انہیں مہاجرین اولین کہتے ہیں۔ کچھ وہ حضرات ہیں جنہوں نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مدینہ طیبہ کی طرف انہیں اصحاب الہجرتین کہتے ہیں۔ بعض حضرات وہ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ کے بعد فتح مکہ سے قبل ہجرت کی یہ اصحاب ہجرت ثانیہ کہلاتے ہیں پہلی آیت میں مہاجرین اولین کا ذکر ہے اور اس آیت میں اصحاب ہجرت ثانیہ کا ذکر ہے۔ (خازن الانفال تحت الایۃ: ۷۴ ۲ / ۲۱۲) {و اولوا الارحام بعضهم اولى ببعض:اور رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم ہجرت اور اخوت کی بنا پر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے حتی کہ یہ ایت نازل ہوئی اور اس میں بیان کیا گیا کہ اللہ تعالی کے حکم میں ہجرت اور اخوت کے مقابلے میں (نسبی ) رشتے دار وراثت میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں اور اس ایت کے ذریعے ہجرت اور اخوت کی وجہ سے وراثت میں حق داری منسوخ فرما دی گئی۔(خازن الانفال تحت الایۃ: ۷۵ ۲ / ۲۱۳) ایت’’و اولوا الارحام‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے3 مسئلے معلوم ہوئے : (1)… ہجرت اور اخوت کی وجہ سے وراثت منسوخ ہو چکی ہے۔ (2)… اب وراثت کا دارو مدار نسبی قرابت داری پر ہے جیسا کہ ایت’’و اولوا الارحام‘‘ سے واضح ہے۔ رضاعی رشتے کی وجہ سے کوئی ایک دوسرے کا وارث نہیں اور سسرالی رشتے میں بھی صرف شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ (3)… ذوی الارحام جیسے ماموں خالہ وغیرہ بھی وارث ہیں جیساکہ احناف کا مذہب ہے۔