Surah Abasa Ayat 11 (80:11)
He Frowned · Juz 30 · Makki
كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariایسے نہیں ، بیشک یہ باتیں نصیحت ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیوں نہیں یہ تو سمجھانا ہے
Tafseer (Urdu)
{انها تذكرة: بیشک یہ باتیں نصیحت ہیں ۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی 5ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ بے شک قران کی ایات مخلوق کے لئے نصیحت ہیں تو بندوں میں سے جو چاہے ان ایات کو یا د کرکے ان سے نصیحت حاصل کرے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرے اور جو چاہے ان سے اعراض کرے اور یہ ایات ان صحیفوں میں لکھی ہوئی ہیں جو اللہ تعالی کے نزدیک عزت والے بلند قدر والے اور پاکی والے ہیں کہ انہیں پاکوں کے سوا کوئی نہیں چھوتا اور یہ صحیفے ان لکھنے والوں کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے ہیں جو کرم والے نیکی والے اور اللہ تعالی کے فرمانبردارہیں اور وہ فرشتے ہیں جو ان کو لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں ۔( مدارک عبس تحت الایۃ: ۱۱-۱۶ ص۱۳۲۲ جلالین مع صاوی عبس تحت الایۃ: ۱۱-۱۶ ۶ / ۲۳۱۵ خازن عبس تحت الایۃ: ۱۱-۱۶ ۴ / ۳۵۳ ملتقطا) قران کریم کی عظمت: اس سے معلوم ہوا کہ جن کاغذوں پر قران لکھا جائے جن قلموں سے لکھا جائے اور جو لوگ لکھیں سب حرمت والے ہیں اوریہ بھی معلوم ہوا کہ قران پاک کو سب سے اونچا رکھا جائے ادھر پاوں یا پیٹھ نہ کی جائے اورناپاک ادمی اسے نہ چھوئے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قران پاک کو حفظ کرنا چاہئے اس کی فضیلت کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’اس شخص کی مثال جو قران کریم کو پڑھتا ہے یہاں تک کہ اسے ذہن نشین کر لیتا ہے تو وہ بزرگ فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور ا س شخص کی مثال جو قران کریم کو پڑھے اورا سے ذہن نشین کرتے ہوئے بڑی دشواری کا سامنا ہو تو ا س کے لئے دگنا ثواب ہے۔( بخاری کتاب التفسیر سورۃ عبس ۳ / ۳۷۳ الحدیث: ۴۹۳۷)