Surah Abasa Ayat 17 (80:17)
He Frowned · Juz 30 · Makki
قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗﭤ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآدمی مارا جائے ، کتنا ناشکرا ہے وہ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے
Tafseer (Urdu)
{قتل الانسان ما اكفره: آدمی مارا جائے کتنا ناشکرا ہے وہ۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی 5ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ کافرآدمی مارا جائے وہ کتنا ناشکرا ہے کہ اللہ تعالی کی کثیر نعمتوں اور بے انتہا احسانات کے باوجود ا س کے ساتھ کفر کرتا ہےکیا اس نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالی نے اسے کس حقیر چیز سے پیدا کیا ہےوہ حقیر چیز منی کے پانی کی بوند ہے جس سے اللہ تعالی نے اسے پیدا فرمایا ہے تو جس کی اصل اس جیسی چیز ہے اس کی یہ اوقات کہاں ہے کہ وہ اللہ تعالی کے احکامات ماننے سے تکبر کرے اور اس کے ساتھ کفر کرے۔اس کے بعد اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق ا س کی زندگی کے مراحل اور اس پر اپنے انعامات بیان فرمائے کہ اس نے انسان کو ماں کے پیٹ میں کچھ عرصہ نطفے کی شکل میں کچھ عرصہ جمے ہوئے خون کی صورت میں اور کچھ عرصہ گوشت کے ٹکڑے کی شان میں رکھا پھر اس کے ہاتھ پاوں انکھیں اور دیگر اعضاء بنائے یہاں تک کہ اسے انسانی صورت کا جامہ پہنا دیا۔ پھر اس کیلئے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کا راستہ آسان کردیا۔ پھر اسے دنیوی زندگی کی مدت پوری ہونے کے بعد موت دی تاکہ وہ ابدی زندگی اور دائمی نعمتوں تک پہنچ سکے پھر اسے قبر میں رکھوایاتاکہ وہ موت کے بعد درندوں کی خوراک بن کے بے عزت نہ ہو۔پھر اس کی موت کے بعد اللہ تعالی جب چاہے گا اسے حساب و جزا کے لئے قبر سے باہر نکالے گاپھر اس کے بعد اس کے مومن ہونے کی صورت میں اپنے فضل سے اسے نعمتوں لذتوں اور اسائشوں سے بھرپور دائمی زندگی عطا کرے گا۔ جب عقلمند انسان ان چیزوں میں غور کرے گا تو وہ اپنے رب عزوجل کی نعمتوں کی ناشکری اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرنے کی قباحت کو جان لے گا اور اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر کرنے اور اللہ تعالی پر ایمان لانے کی طرف مائل ہو گا۔( خازنعبستحت الایۃ:۱۷-۲۲۴ / ۳۵۴ روح البیانعبس تحت الایۃ: ۱۷-۲۲ ۱۰ / ۳۳۴-۳۳۶ تفسیر قرطبی عبس تحت الایۃ: ۱۷-۲۲ ۱۰ / ۱۵۳-۱۵۴ الجزء التاسع عشر روح المعانی عبس تحت الایۃ: ۱۷-۲۲ ۱۵ / ۳۴۴- ۳۴۷ ملتقطا)