Surah Abasa Ayat 33 (80:33)
He Frowned · Juz 30 · Makki
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ
Tafseer (Urdu)
{فاذا جآءت الصآخة: پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی۔} اب یہاں سے قیامت کی ہولناکیاں بیان کی جا رہی ہیں کیونکہ انسان جب ان ہولناکیوں کے بارے میں سنے گا تو اس کے دل میں خوف پیدا ہو گا اور اسی خوف کی وجہ سے وہ دلائل میں غورو فکر کرنے کفر سے منہ موڑ کر ایمان قبول کرنے لوگوں پر تکبر کرنا چھوڑ دینے اور ہر ایک کے ساتھ عاجزی وانکساری کے ساتھ پیش انے کی طرف مائل ہو گا۔چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی 4 ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب دوسری بار صور پھونکنے کی کان پھاڑدینے والی اواز ائے گی تو اس دن آدمی اپنے بھائی اپنی ماں اپنے باپ اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا اور ان میں سے کسی کی طرف توجہ نہیں کرے گا تاکہ ان میں کوئی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کر لے اور ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے دوسروں سے لاپرواہ کردے گی۔( تفسیرکبیر عبستحت الایۃ: ۳۳-۳۷ ۱۱ / ۶۱-۶۲ خازن عبس تحت الایۃ: ۳۳-۳۷ ۴ / ۳۵۴-۳۵۵ ملتقطا) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن تم ننگے پاوں ننگے بدن اور بے ختنہ شدہ اٹھائے جاو گے۔ایک صحابیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کیا لوگ ایک دوسرے کے ستر کو بھی دیکھیں گےارشاد فرمایا: ’’اے فلاں عورت! ’’لكل امرئ منهم یومىذ شان یغنیه‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکرپڑی ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔ ( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ عبس ۵ / ۲۱۹ الحدیث: ۳۳۴۳)