Surah At Takwir Ayat 1 (81:1)
The Overthrowing · Juz 30 · Makki
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب دھوپ لپیٹی جائے
Tafseer (Urdu)
{اذا الشمس كورت: جب سورج کو لپیٹ دیاجائے گا۔} اس سورت کی ابتدائی 14ایات میں 12چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے۔ (1)…جب سورج کے نور کوزائل کر دیا جائے گا ۔ (2)… جب ستارے جھڑکر بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گر پڑیں گے اور کوئی ستارہ اپنی جگہ پر باقی نہ رہے گا۔ (3)… جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ (4)… جب وہ اونٹنیاں جن کے حمل کو دس مہینے گذر چکے ہوں گے اور ان کا دودھ نکالنے کا وقت قریب آگیا ہو گا ازاد پھریں گی کہ ان کو نہ کوئی چرانے والا ہو گا اورنہ ان کا کوئی نگراں ہو گا اس دن کی دہشت اور ہولناکی کا یہ عالم ہو گا اور لوگ اپنے حال میں ایسے مبتلا ہوں گے کہ ان اونٹنیوں کی پرواہ کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔ (5)… جب قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے کے بعد وحشی جانور جمع کیے جائیں گے تاکہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لیں پھر خاک کردیئے جائیں ۔ (6)… جب سمندر سلگائے جائیں گےپھر وہ خاک ہو جائیں گے ۔ (7)… جب جانوں کے جوڑ بنیں گے۔ مفسرین نے اس کے مختلف معنی بیان کئے ہیں (1) نیک لوگ نیکوں کے ساتھ اور برے لوگ بروں کے ساتھ کر دئیے جائیں گے۔ ــــ(2)جانیں اپنے جسموں کے ساتھ یا اپنے عملوں کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(3) ایمانداروں کی جانیں حوروں کے ساتھ اور کافروں کی جانیں شیاطین کے ساتھ ملادی جائیں گی۔(4) روحیں اپنے جسموں کی طرف لوٹا دی جائیں گی۔ (8)… جب اس لڑکی سے پوچھا جائے گا جو زندہ دفن کی گئی ہو کہ کس خطا کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا۔اہل عرب کا دستور تھا کہ زمانہ جاہلیت میں وہ لڑکیوں کو زمین میں زندہ دفن کردیتے تھے اور یہ سوال قاتل کی سرزنش کے لئے ہوگا تاکہ و ہ لڑکی جواب دے کہ میں بے گناہ ماری گئی تھی۔ (9)… جب نامہ اعمال حساب کے لئے کھولے جائیں گے۔ (10)…جب آسمان اپنی جگہ سے ایسے کھینچ لیا جائے گا جیسے ذبح کی ہوئی بکری کے جسم سے کھال کھینچ لی جاتی ہے۔ (11)… جب جہنم کو اللہ تعالی کے دشمنوں کے لئے بھڑکایا جائے گا۔ (12)… اور جب جنت کو اللہ تعالی کے پیاروں کے قریب لایا جائے گا۔اس کے بعد فرمایا کہ جب یہ 12چیزیں واقع ہوں گی تو اس وقت ہر جان کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کون سی نیکی یا بدی اپنے ساتھ لے کر حاضر ہوئی ہے۔( خازن التکویر تحت الایۃ : ۱-۱۴ ۴ / ۳۵۵- ۳۵۶ مدارک تحت الایۃ: ۱-۱۴ ص۱۳۲۴-۱۳۲۵ جلالین مع صاوی التکویر تحت الایۃ: ۱-۱۴ ۶ / ۲۳۱۹-۲۳۲۱ ملتقطا) {و اذا الموءدة سىلت: اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائیگا۔} حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے اس ایت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے نام لے کر فرمایا’’ایک صاحب تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی اٹھ بیٹیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دیا تھا (اب میرے لئے کیا حکم ہے) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم ہر بیٹی کی طرف سے ایک غلام ازاد کر دو۔اس شخص نے دوبارہ عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم (میرے پاس غلام نہیں ہیں البتہ) میں اونٹوں کا مالک ہوں ۔ارشاد فرمایا:’’اگر تم چاہو تو ہر بیٹی کے بدلے ایک اونٹ ہدیہ کر دو۔( معجم الکبیر باب القاف من اسمہ: قیس قیس بن عاصم المنقری ۱۸ / ۳۳۷ الحدیث: ۸۶۳) بیٹیو ں سے متعلق دین اسلام کا عظیم کارنامہ: یہ دین اسلام کا ہی عظیم کارنامہ ہے جس نے بیٹیوں کو اپنے لئے بدنامی کا باعث سمجھ کرزمین میں زندہ دفن کر دینے والے لوگوں کو اس انسانیت کش ظلم کا احساس دلا یا اوران لوگوں کی نظروں میں بیٹی کی عزت اور وقار قائم کیا اور بیٹیوں کے فضائل بیان کر کے معاشرے میں برسوں سے جاری اس دردناک عمل کا خاتمہ کر دیا اس سے معلوم ہو اکہ اسلا م عورتوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انہیں ہر طرح کے ظلم سے بچاتا ہے چاہے وہ ظلم ان کی ناحق زندگی ختم کر کے کیا جائے یا ان کی عزت و ناموس اور ان کے جسم کے ساتھ کھیل کر یا ان کے جسم کی نمائش کروا کر کیا جائے۔اس سے ان لوگوں کو اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہئے جوعورت کے بارے دین اسلام کے احکامات کو اس کے اوپر ظلم قرار دیتے ہیں چادر و چار دیواری کو عورت کے حق میں ناانصافی کہتے ہیں اورروشن خیالی اور نام نہادتہذیب و تمدن کے نام پر عورت کوشرم و حیا سے عاری کرنے میں اسلام کی شان سمجھتے ہیں ۔ {و اذا الجحیم سعرت: اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔} اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن جہنم کی بھڑک میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ کفار کو ہمیشہ کے لئے جلاتی رہے ورنہ جہنم تو جب سے پیدا کی گئی ہے تب سے ہی بھڑک رہی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جہنم کی اگ ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سرخ ہو گئیپھر ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سفید ہو گئیپھر ایک ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ وہ سیاہ ہو گئیاب وہ ا نتہائی سیاہ ہے۔( ترمذی کتاب صفۃ جہنم ۸-باب منہ ۴ / ۲۶۶ الحدیث: ۲۶۰۰) {علمت نفس ما احضرت: ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔} جب لوگوں کو اپنے کئے ہوئے اچھے برے اعمال معلوم ہوں گے تو اس وقت ان کا جو حال ہو گا اس کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’یوم تجد كل نفس ما عملت من خیر محضرا ﳝ- و ما عملت من سوء-تود لو ان بینها و بینه امدا بعیدا-و یحذركم الله نفسه-و الله رءوف بالعباد‘‘(ال عمران:۳۰) ترجمہ کنزالعرفان: (یاد کرو)جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا توتمنا کرے گاکہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئی دور دراز کی مسافت (حائل) ہوجائے اور اللہ تمہیں اپنےعذاب سے ڈراتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑامہربان ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان ایات میں زیادہ سے زیادہ غور کرے تاکہ ا س کے دل میں اللہ تعالی کا خوف پیدا ہو اوراسے گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی سوچ نصیب ہو۔