Surah Al Infitar Ayat 6 (82:6)
The Cleaving · Juz 30 · Makki
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے انسان!تجھے کس چیز نے اپنے کرم والے رب کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے آدمی تجھے کس چیز نے فریب دیا اپنے کرم والے رب سے
Tafseer (Urdu)
{یایها الانسان: اے انسان!۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی 3ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ اے ا نسان! تجھے کس چیز نے اپنے کرم والے رب عزوجل کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا کہ تو نے اس کی نعمت اور کرم کے باوجود اس کا حق نہ پہچانا اور اس کی نافرمانی کی جو تجھے عدم سے وجود میں لے کر ایاپھر اس نے تمہارے اعضاء کو ٹھیک بنایا اور تجھے پکڑنے کے لئے ہاتھچلنے کے لئے پاوں بولنے کے لئے زباندیکھنے کے لئے انکھ اور سننے کے لئے کان عطا کئے پھر ان اعضاء میں مناسبت رکھی کہ ایک ہاتھ یا پاوں دوسرے ہاتھ یا پاوں سے چھوٹایا لمبا نہیں پھر تمہیں لمبے قد والایا چھوٹے قدوالا خوب صورت یا بد صورتگورا یا کالا مرد یا عورت جس صورت میں چاہا تجھے جوڑدیا اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی ان کرم نوازیوں کودیکھ کر بھی ا س کی نافرمانی سے نہیں رکے بلکہ تم انصاف کے دن کو جھٹلانے لگے اور اعمال کی جزا ء ملنے کے دن کاانکار کرنے لگ گئے۔(مدارک الانفطار تحت الایۃ : ۶-۹ ص۱۳۲۷ روح البیان الانفطار تحت الایۃ: ۶-۹ ۱۰ / ۳۵۸-۳۶۰ خازن الانفطار تحت الایۃ: ۶-۹ ۴ / ۳۵۸ جلالین الانفطار تحت الایۃ: ۶-۹ ص۴۹۲ ملتقطا) اللہ تعالی کی نافرمانی کر کے اچھی جزا کی امید رکھنا بیوقوفی کی علامت ہے: ان ایات سے معلوم ہو اکہ اگرچہ اللہ تعالی کرم فرمانے والا ہے لیکن اس کے کرم کو پیش نظر رکھ کر اس کی نافرمانی کرنے کی جرات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اس کی پکڑ اور ا س کے عذاب کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے اس کی نافرمانی سے ہر دم بچتے رہنا چاہئے۔اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے کہ جو گناہ کر نے کے بعد ا س سے سچی توبہ کرنے کی بجائے یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ اللہ تعالی بڑابخشنے والا ہے وہ معاف کردے گا کوئی بات نہیں ۔ان کے لئے درج ذیل دو احادیث میں بھی بڑی عبرت ہےچنانچہ (1)… حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’سمجھ دار شخص وہ ہے جو (دنیا میں ہی) اپنا محاسبہ کر لے اور اخرت کی بہتری کے لئے نیک اعمال کرے اور وہ شخص احمق ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تعالی سے اخرت کے انعام کی امید رکھے۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ۔۔۔ الخ ۲۵-باب ۴ / ۲۰۷ الحدیث: ۲۴۶۷) (2)…حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اللہ تعالی کے حلم اور بردباری سے دھوکے میں نہ پڑ جائے بے شک جنت اور دوزخ تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے۔( الترغیب والترہیب کتاب التوبۃ والزہد الترغیب فی التوبۃ والمبادرۃ بہا۔۔۔ الخ ۴ / ۴۸ الحدیث: ۴۷۵۷) اللہ تعالی ہمیں اپنی نافرمانی سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔