Surah Al Inshiqaq Ayat 13 (84:13)
The Sundering · Juz 30 · Makki
اِنَّهٗ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاﭤ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ اپنے گھر میں خوش تھا۔
Tafseer (Urdu)
{انه كان فی اهله مسرورا: بیشک وہ اپنے گھر والوں میں خوش تھا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن کافر کا یہ حال اس لئے ہو گا کہ وہ دنیا کے اندراپنے گھر میں اپنی خواہشوں شہوتوں تکبر اور غرور میں خوش تھااس نے یہ سمجھ رکھا تھاکہ وہ اپنے رب عزوجل کی طرف نہیں لوٹے گااور وہ مرنے کے بعد اٹھایا نہ جائے گا اور جیسا اس نے گمان کیا تھا درحقیقت ویسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ ضرور اپنے رب عزوجل کی طرف لوٹے گااور مرنے کے بعد اسے اٹھایاجائے گا اور اس کے اعمال کا حساب کیا جائے گابیشک اس کا رب عزوجل اس کے کفر اور تمام گناہوں کودیکھ رہا ہے اور اس کا کوئی عمل اللہ تعالی سے پوشیدہ نہیں لہذا وہ بہر حال اللہ تعالی کی طرف لوٹے گا اور اپنے اعمال کی جزا پائے گا۔( خازن الانشقاق تحت الایۃ: ۱۳-۱۵ ۴ / ۳۶۳ مدارک الانشقاق تحت الایۃ: ۱۳-۱۵ ص۱۳۳۴ ملتقطا) اخرت سے غفلت اور بے فکری انتہائی نقصان دہ ہے: اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص دنیا کی رنگینیوں میں مشغول ہو کر اپنی اخرت سے غافل اور بے فکرہو جائے اور اس کی بہتری کے لئے کوشش نہ کرے تو وہ اخرت میں بہت نقصان اٹھا ئے گا اور ایسا شخص دنیا میں بھی نقصان ہی اٹھاتا ہے جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’ جسے اخرت کی فکر ہو اللہ تعالی ا س کا دل غنی کر دیتا ہے اور ا س کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل لونڈی بن کر اتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو اللہ تعالی محتاجی اس کی دونوں انکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اس کے جمع شدہ کاموں کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا (کے مال) سے بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لئے مقدر ہے۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ۳۰-باب ۴ / ۲۱۱ الحدیث: ۲۴۷۳) اللہ تعالی ہمیں دنیا کے عیش و عشرت میں کھو کر اپنی اخرت سے غافل اور بے فکر ہونے سے بچائے اور اپنی اخرت بہتر بنانے کے لئے خوب کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔