Surah Al Inshiqaq Ayat 16 (84:16)
The Sundering · Juz 30 · Makki
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو مجھے شام کے اجالے کی قسم ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو مجھے قسم ہے شام کے اُجالے کی۔
Tafseer (Urdu)
{فلا اقسم بالشفق: تو مجھے شام کے اجالے کی قسم ہے۔} اس ایت سے اللہ تعالی نے اپنی پیدا کی ہوئی چند چیزوں کی قسم ارشاد فرمائی ہے تاکہ لوگ ان میں غور و فکر کر کے عبرت حاصل کرنے کی طرف مائل ہوں ۔ شفق سے کیا مراد ہے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک شفق سے مراد وہ اجالا ہے جو مغرب کی جانب سرخی ختم ہونے کے بعد شمال اور جنوب کی طرف نمودار ہوتا ہے اوراس اجالے کے غائب ہونے پر اپ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک مغرب کی نماز کا وقت ختم ہوتا اورعشاء کی نمازکا وقت شروع ہوتا ہے اور یہی کثیر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اکابر تابعین اور تبع تابعین کا قول ہے اور بعض علماء شفق سے وہی سرخی مراد لیتے ہیں جو سورج غروب ہونے کے بعد افق میں نمودار ہوتی ہے۔ {و الیل و ما وسق: اور رات کی اور ان چیزوں کی جنہیں رات جمع کردے۔} یعنی رات کی قسم اور ان چیزوں کی قسم جنہیں رات جمع کر دیتی ہے۔ ان چیزوں سے مراد یا توجانور ہیں جو کہ دن میں منتشر ہوتے ہیں اور رات میں اپنے آشیانوں اور ٹھکانوں کی طرف چلے آتے ہیں یا ان سے مراد وہ اعمال ہیں جو رات میں کئے جاتے ہیں جیسے تہجد کی نماز کہ یہ رات میں ادا کی جاتی ہے یا ان سے مراد تاریکی اور ستارے ہیں کہ یہ رات میں جمع ہوتے ہیں ۔( خازن الانشقاق تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۳۶۴ مدارک الانشقاق تحت الایۃ: ۱۷ ص۱۳۳۴ ملتقطا) {و القمر اذا اتسق: اور چاند کی جب اس کا نور پورا ہوجائے۔} یعنی چاند کی قسم! جب وہ پورا ہوجائے اور اس کا نور کامل ہوجائے۔ چاند کا نور ایام بیض یعنی قمری مہینے کی تیرھویںچودھویں اورپندرھویں تاریخ میں کامل ہوتا ہے۔( خازن الانشقاق تحت الایۃ: ۱۸ ۴ / ۳۶۴ ملخصا)