Surah Al Inshiqaq Ayat 19 (84:19)
The Sundering · Juz 30 · Makki
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍﭤ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariضرور تم ایک حالت کے بعد دوسری حالت کی طرف چڑھو گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanضرور تم منزل بہ منزل چڑھو گے۔
Tafseer (Urdu)
{لتركبن طبقا عن طبق: ضرور تم ایک حالت کے بعد دوسری حالت کی طرف چڑھو گے۔} یہ اس سے اوپر ایات میں مذکور قسموں کا جواب ہے ۔بعض مفسرین کے نزدیک اس ایت میں عام انسانوں سے خطاب ہے اور ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھنے سے مراد یہ ہے کہ اے لوگو! تمہیں ایک حال کے بعد دوسرا حال پیش ائے گا۔ان احوال کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ پہلے موت کی سختیوں اورہولناکیوں میں مبتلا ہونا پھر مرنے کے بعد اٹھنا اور پھرحساب کی جگہ میں پیش ہونا مراد ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان کے حالات میں مختلف درجے ہیں کہ ایک وقت وہ دودھ پیتا بچہ ہوتا ہے پھراس کا دودھ چھوٹتا ہے پھراس کے لڑکپن کا زمانہ آتا ہے پھر وہ جوان ہوتا ہے پھراس کی جوانی ڈھلتی ہے اور پھر وہ بوڑھا ہوجاتا ہے ۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس ایت میں خاص نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے خطاب ہے اور ایک منزل سے دوسری منزل کی طرف چڑھنے سے مراد یہ ہے کہ ایک اسمان سے دوسرے اسمان کی طرف چڑھیں گے اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے ساتھ ایسا کیا کہ اپ معراج کی رات ایک آسمان پر تشریف لے گئے پھر دوسرے اسمان پر اسی طرح درجہ بدرجہ اور مرتبہ بمرتبہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اللہ تعالی کے قرب کی منازل میں پہنچے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کاحا ل بیان فرمایا گیا ہے اور اس ایت کے معنی یہ ہیں کہ آپ کفار کی سرکشی اور ان کے جھٹلانے کی وجہ سے غمگین نہ ہوں آپ کو مشرکین پر فتح اور کامیابی حاصل ہوگی اور اپ کا انجام بہت بہتر ہوگا۔( خازن الانشقاق تحت الایۃ: ۱۹ ۴ / ۳۶۴) {فما لهم لا یؤمنون: توانہیں کیا ہواکہ وہ ایمان نہیں لاتے۔} یعنی اس سے پہلی ایات میں جن چیزوں کی قسم ارشاد فرمائی گئی یہ اللہ تعالی کی عظیم قدرت پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو دیکھ کر کسی عقلمند انسان کے لئے اللہ تعالی پر ایمان لانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تو اب کفار کے پاس اللہ تعالی پر ایمان لانے میں کیا عذر باقی رہ گیا ہے اور وہ دلائل ظاہر ہونے کے باوجود اللہ تعالی پر کیوں ایمان نہیں لاتے۔( جلالین مع صاوی الانشقاق تحت الایۃ: ۲۰ ۶ / ۲۳۳۶-۲۳۳۷)