Surah Al Buruj Ayat 4 (85:4)
The Mansions of the Stars · Juz 30 · Makki
قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکھائی والوں پر لعنت ہو۔۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکھائی والوں پر لعنت ہو۔
Tafseer (Urdu)
{قتل اصحب الاخدود: کھائی والوں پر لعنت ہو۔} اس سے اوپر والی ایات میں اللہ تعالی نے اسمانقیامت کے دنجمعہ اور عرفہ کے دن کی قسمیں ارشاد فرما کراس ایت اور ا س کے بعد والی تین ایات میں فرمایا کہ کفار قریش بھی اسی طرح ملعون ہیں جس طرح بھڑکتی آ گ والی کھائی والوں پر اس وقت لعنت کی گئی جب وہ اس کھائی کے کناروں پر کرسیاں بچھائے بیٹھے ہوئے تھے اور مسلمانوں کو آگ میں ڈال رہے تھے اورشاہی لوگ بادشاہ کے پاس آکر ایک دوسرے کے لئے گواہی دیتے تھے کہ انہوں نے حکم کی تعمیل کرنے میں کوتاہی نہیں کی اورایمانداروں کو آگ میں ڈال دیا۔( مدارک البروج تحت الایۃ: ۴-۷ ص۱۳۳۵-۱۳۳۶) کھائی والوں کا واقعہ:ـ یہاں کھائی والوں کاجو واقعہ ذکر کیا گیا ا س کے بارے میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں اپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھادوں ۔بادشاہ نے ا س کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیاوہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں ایک راہب رہتا تھاوہ لڑکا (روزانہ) اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سننے لگا اوراس راہب کا کلام اس لڑکے کے دل میں اترتاجا رہا تھا ۔جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو (دیر سے انے پر) جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے ا س کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں جا دو گر سے خوف ہو تو کہہ دینا:گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے خوف ہو تو ان سے کہہ دینا کہ جادو گر نے مجھے روک لیا تھا۔ یہ سلسلہ یونہی جاری تھا کہ اسی دوران ایک بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ بند کر دیا لڑکے نے سوچا :اج میں ازماوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہبچنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا:اے اللہ! عزوجل اگر تجھے راہب کے کام جادو گر سے زیادہ پسند ہیں تو اس پتھر سے جانور کو ہلاک کر دے تاکہ لوگ راستے سے گزر سکیں ۔ چنانچہ جب لڑکے نے پتھر مارا تو وہ جانور اس کے پتھر سے مر گیا۔پھر اس نے راہب کے پاس جا کراسے اس واقعے کی خبر دی تو اس نے کہا:اے بیٹے! اج تم مجھ سے افضل ہو گئے ہوتمہارا مرتبہ وہاں تک پہنچ گیا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں ۔ عنقریب تم مصیبت میں گرفتار ہو گے اور جب تم مصیبت میں گرفتار ہو تو کسی کو میرا پتا نہ دینا۔ (اس کے بعد اس لڑکے کی دعائیں قبول ہونے لگیں ) اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض اچھے ہونے لگ گئے اور وہ تمام بیماریوں کا علاج کرنے لگا ۔ بادشاہ کا ایک ساتھی نابینا ہوگیا تھا اس نے جب یہ خبر سنی تو وہ اس لڑکے کے پاس بہت سے تحائف لے کر ایااور اس سے کہا:اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں یہ سب چیزیں تمہیں دے دوں گا۔لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفاتو اللہ تعالی دیتا ہےاگر تم اللہ تعالی پر ایمان لے او تو میں اللہ تعالی سے دعاکروں گا اور وہ تمہیں شفا عطا کرد ے گا۔ چنانچہ وہ اللہ تعالی پر ایمان لے ایاتو اللہ تعالی نے اسے شفا دے دی۔جب وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح ا س کے پاس بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا:تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہےاس نے کہا: میرے رب عزوجل نے ۔بادشاہ نے کہا:کیا میرے سوا تیرا کوئی رب ہے اس نے کہا :ہاں ! میرا اور تمہارا رب اللہ تعالی ہے۔یہ سن کر بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اذیت دیتا رہا جب تک ا س نے لڑکے کا پتا نہ بتا دیا۔پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹے!تمہارا جادو یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادر زاد اندھوں کو ٹھیک کر دیتے ہوبرص کے مریضوں کو تندرست کر دیتے ہو اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرتے ہو۔اس لڑکے نے کہا:میں کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفا تو میرا اللہ تعالی دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اذیت دیتا رہا جب تک ا س نے راہب کا پتا نہ بتا دیا۔پھر راہب کو لایا گیا اورا س سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاو۔راہب نے انکار کیا تو بادشاہ نے ارا منگوا کر ا س کے سر کے درمیان رکھا اور اسے ارے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ پھراس نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاو۔ اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اسے بھی ارے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔پھر اس لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاو۔اس لڑکے نے انکار کیا تو بادشاہ نے اپنے چند ساتھیوں سے کہا:اس لڑکے کو فلاں پہاڑ پر لے جاو اور اسے لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاواگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک ورنہ اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔وہ لوگ اس لڑکے کو لے کر گئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔اس لڑکے نے دعا کی! اے اللہ! عزوجل تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔اسی وقت ایک زلزلہ ایا اور وہ سب لوگ پہاڑ سے نیچے گر گئے۔اس کے بعد وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا! جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوالڑکے نے جواب دیا کہ اللہ تعالی نے مجھے ان سے بچا لیا۔بادشاہ نے پھر اسے اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اسے ایک کشتی میں سوار کر کے سمندر کے وسط میں لے جاواگر یہ اپنا دین چھوڑ دے تو ٹھیک ورنہ اسے سمندر میں پھینک دینا۔وہ لوگ اسے سمندر میں لے گئے تو ا س نے دعا کی:اے اللہ! عزوجل تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔وہ کشتی فورا الٹ گئی اور اس لڑکے کے علاوہ سب لوگ غرق ہو گئے۔وہ لڑکا پھر بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے پوچھا:جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوااس نے کہا:اللہ تعالی نے مجھے ان سے بچا لیا۔پھر اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں کر سکو گے جب تک میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو۔بادشاہ نے وہ عمل پوچھا تو لڑکے نے کہا: تم ایک میدان میں سب لوگوں کو جمع کرو اورمجھے کھجور کے تنے پر سولی دو پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکال کر بسم اللہ رب الغلام کہہ کر مجھے مارواگر تم نے ایساکیا تووہ تیرمجھے قتل کر دے گا۔چنانچہ بادشاہ نے تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور اس لڑکے کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کر کے تیر چھوڑدیا وہ تیر لڑکے کی کنپٹی میں پیوست ہو گیالڑکے نے تیر لگنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا اورانتقال کرگیا۔ یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے کہا کہ ہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائےہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائےہم ا س لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو اس واقعے کی خبردی گئی اور ا س سے کہا گیا کہ کیا تم نے دیکھا کہ جس سے تم ڈرتے تھے اللہ تعالی نے وہی کچھ تمہارے ساتھ کر دیا اور تمام لوگ ایمان لے ائے۔ اس نے گلیوں کے دہانوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیاجب ان کی کھدائی مکمل ہوئی تو ان میں اگ جلوائی گئیپھر بادشاہ نے حکم دیا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے اگ میں ڈال دو۔چنانچہ لوگ اس اگ میں ڈالے جانے لگے یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کی گود میں بچہ تھا وہ ذرا جھجکی توبچے نے کہا: اے ماں صبر کر! اور جھجک نہیں تو سچے دین پر ہے (اوروہ بچہ اور ماں بھی آگ میں ڈال دیئے گئے)۔( مسلم کتاب الزہد والرقائق باب قصۃ اصحاب الاخدود... الخ ص۱۶۰۰ الحدیث: ۷۳(۳۰۰۵)) اور حضرت ربیع بن انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جو مومن آگ میں ڈالے گئے اللہ تعالی نے ان کے آگ میں پڑنے سے پہلے ہی ان کی روحیں قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آگ نے خندق کے کناروں سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفار کو جلا دیا۔( خازن البروج تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۳۶۶) کھائی والوں کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات: اس واقعہ سے 6 باتیں معلوم ہوئیں : (1)…امام عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس واقعہ میں اہل ایمان کو صبر کرنے اور کفار مکہ کی ایذا رسانیوں پر تحمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔( مدارک البروج تحت الایۃ: ۷ ص۱۳۳۶) (2)…اللہ تعالی کے اولیاء کی کرامات برحق ہیں ۔ (3) …ولایت عمل اور عمر پر موقوف نہیں بلکہ چھوٹے بچوں کو بھی ولایت مل جاتی ہےحضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا مادر زاد ولیہ تھیں ۔ (4)… بزرگوں کی صحبت کا فیض عبادات سے زیادہ ہے۔ (5)… جس دین میں اولیاء موجود ہوں وہ اس دین کی حقانیت کی دلیل ہے۔ (6)…اللہ والوں سے ان کی وفات کے بعد بھی ہدایت ملتی ہے۔