Surah At Tariq Ayat 1 (86:1)
The Nightcommer · Juz 30 · Makki
وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآسمان کی قسم اور رات کو آنے والے کی۔
Tafseer (Urdu)
{و السمآء و الطارق: آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔} شان نزول :ایک رات سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی خدمت میں ابو طالب کچھ ہدیہ لائے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اس کو تناول فرما رہے تھے کہ اسی دوران ایک ستارا ٹوٹا اور پوری فضا آگ سے بھر گئی۔ ابو طالب گھبرا کر کہنے لگے کہ یہ کیا ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’کہ یہ ستارہ ہے جس سے شیاطین مارے جاتے ہیں اور یہ اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ ابو طالب کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالی نے (اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی تصدیق میں ) یہ ایات نازل فرمائیں۔چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی 3ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسمان کی اور رات میں خوب چمکنے والے ستارے کی قسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ ہر جان پر اس کے رب عزوجل کی طرف سے ایک نگہبان مقررہے جو اس کے اعمال کی نگہبانی کرتا ہے او راس کی نیکی بدی سب لکھ لیتا ہے۔ حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ یہاں نگہبان سے مراد فرشتے ہیں ۔( خازن الطارق تحت الایۃ: ۱-۴ ۴ / ۳۶۸) ان فرشتوں کے بارے میں اللہ تعالی نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’و یرسل علیكم حفظة‘‘(انعام:۶۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ ایت ’’ان كل نفس لما علیها حافظ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)… اگرچہ رب تعالی اس بات پرقادر ہے کہ خود سب کی ہر طرح حفاظت فرمائے مگر قانون یہ ہے کہ یہ کام اس کے مقرر کردہ فرشتے کریں ۔ (2)… رب تعالی کے بعض نام اس کے بندوں کو دے سکتے ہیں جیسے اللہ تعالی کا ایک نام حافظ ہے اور یہاں ایت میں فرشتوں کو حافظ بتایا گیا لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم ہمارے حافظ وناصرہیں۔