Surah At Tariq Ayat 11 (86:11)
The Nightcommer · Juz 30 · Makki
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس آسمان کی قسم جولوٹ لوٹ کر برستا ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآسمان کی قسم جس سے مینہ اترتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و السمآء ذات الرجع: اس آسمان کی قسم جولوٹ لوٹ کر برستا ہے۔} توحید اور حشر و نشر کے دلائل بیان فرمانے کے بعد یہاں سے زمین و اسمان کی قسم ارشاد فرما کر قران پاک کی حقیقت کو بیان کیا گیاہےچنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی 3ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس سے بار بار بارش اترتی ہے اوراس زمین کی قسم جسے سبزہ نکالنے کیلئے پھاڑا جاتا ہے بیشک قرآن ضرور فیصلہ کردینے والا کلام ہے کہ یہ حق اورباطل میں فرق و امتیاز کردیتا ہے اور قران کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے جو نکمی اور بے کار ہو۔( تفسیرکبیرالطارق تحت الایۃ: ۱۱-۱۴ ۱۱ / ۱۲۲-۱۲۳ خازن الطارق تحت الایۃ: ۱۱-۱۴ ۴ / ۳۶۹ ملتقطا) ان ایات میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسمان جس سے بار بار بارش نازل ہوتی ہےیہ زمینی پیداوار نباتات اور درختوں کے لئے باپ کی طرح ہے اورپھاڑی جانے والی زمین نباتات کے لئے ماں کی طرح ہے اور یہ دونوں اللہ تعالی کی عجیب نعمتیں ہیں اور ان میں اللہ تعالی کی قدرت کے بے شمار آثار نمودار ہیں جن میں غور کرنے سے آدمی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے بہت سے دلائل ملتے ہیں ۔( روح البیان الطارق تحت الایۃ: ۱۲ ۱۰ / ۴۰۰ ملخصا) قران فیصلہ کن کلام ہے: قران مجیدکی اس شان اور اس کے علاوہ دیگر شانوں کے بارے میں حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم فرماتے ہیں میں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب ایک فتنہ برپا ہوگا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اس سے بچنے کا طریقہ کیا ہو گااپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالی کی کتاب جس میں تمہارے اگلوں اور پچھلوں کی خبریں ہیں اور تمہارے آپس کے فیصلے ہیں قرآن فیصلہ کن ہے اور یہ کوئی مذاق نہیں ہے ۔ جو ظالم اسے چھوڑ دے گا اللہ تعالی اسے تباہ کردے گا اور جو اس کے غیر میں ہدایت ڈھونڈے گا اللہ تعالی اسے گمراہ کر دے گا وہ اللہ تعالی کی مضبوط رسی اور وہ حکمت والا ذکر ہے وہ سیدھا راستہ ہے قرآن وہ ہے جس کی برکت سے خواہشات بگڑتی نہیں اور جس کے ساتھ دوسری زبانیں مل کر اسے مشتبہ و مشکوک نہیں بناسکتیں جس سے علماء سیر نہیں ہوتے جو زیادہ دہرانے سے پرانا نہیں پڑتا جس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے قرآن ہی وہ ہے کہ جب اسے جنات نے سنا تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہم نے عجیب قرآن سنا ہے جو اچھائی کی رہبر ی کرتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے جو قرآن کا قائل ہو وہ سچا ہے جس نے اس پر عمل کیا وہ ثواب پائے گا اور جو اس کے مطابق فیصلہ کرے گا وہ منصف ہوگا اور جو اس کی طرف بلائے گا وہ سیدھی راہ کی طرف بلائے گا۔( ترمذی کتاب فضائل القران باب ما جاء فی فضل القران ۴ / ۴۱۴ الحدیث: ۲۹۱۵)