Surah At Tariq Ayat 9 (86:9)
The Nightcommer · Juz 30 · Makki
یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجس دن چھپی باتوں کو جانچا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجس دن چھپی باتوں کی جانچ ہوگی ۔
Tafseer (Urdu)
{یوم تبلى السرآىر: جس دن چھپی باتوں کو جانچا جائے گا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ جس دن چھپی باتوں کو ظاہر کر دیا جائے گا تو اس دن مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کاا نکار کرنے والے ادمی کے پاس نہ کوئی ایسی قوت ہوگی جس سے وہ عذاب کو روک سکے اور نہ اس کا کوئی ایسا مددگار ہوگا جو اسے عذاب سے بچا سکے۔ چھپی باتوں سے مراد عقائد نیتیں اور وہ اعمال ہیں جن کو آدمی چھپاتا ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالی ان سب کو ظاہر کردے گا۔(مدارک الطارق تحت الایۃ: ۹-۱۰ ص۱۳۳۸-۱۳۳۹ خازن الطارق تحت الایۃ: ۹-۱۰ ۴ / ۳۶۹ ملتقطا) قیامت کے دن پوشیدہ اعمال ظاہر کر دئیے جائیں گے : معلوم ہو اکہ بندے کے عقائد نیتیں اور اعمال اگرچہ دنیا میں کسی پر ظاہر نہ ہو سکیں لیکن قیامت کے دن اس کا کیا دھرا سب سامنے اجائے گا۔ چنانچہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’هنالك تبلوا كل نفس ما اسلفت و ردوا الى الله مولىهم الحق‘‘(یونس:۳۰) ترجمہ کنزالعرفان: وہاں ہر ادمی اپنے سابقہ اعمال کو جانچلے گا اور انہیں اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا جو ان کا سچا مولی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ینبؤا الانسان یومىذۭ بما قدم و اخر(۱۳) بل الانسان على نفسه بصیرة‘‘(قیامہ:۱۳ ۱۴) ترجمہ کنزالعرفان: اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا بتادیا جائے گا۔بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھنے والا ہوگا۔ لہذا ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے ظاہری اعمال درست کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے باطنی اور پوشیدہ اعمال کو بھی درست کرے تاکہ قیامت کے دن لوگوں کے سامنے رسوا ہونے سے بچ سکے ۔