Surah Al Ghashiyah Ayat 17 (88:17)
The Overwhelming · Juz 30 · Makki
اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْﭨ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسا بنایا گیا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا۔
Tafseer (Urdu)
{افلا ینظرون الى الابل: تو کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے۔} اس سورت میں جنت کی نعمتوں کا ذکر سن کر کفار نے تعجب کیا اورانہیں جھٹلایاتو اللہ تعالی نے انہیں اپنے کارخانہ قدرت اور عجائبات عالم میں نظر کرنے کی ہدایت فرمائی کہ وہ دیکھیں غور کریں اورسمجھیں کہ جس قادر حکیم نے دنیا میں ایسی عجیب و غریب چیزیں پیدا کی ہیں اس کی قدرت سے جنتی نعمتوں کا پیدا فرمانا کس طرح قابل تعجب اور لائق انکار ہوسکتا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کیا یہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کیسا بنایا گیا ہے۔ اونٹ میں اللہ تعالی کی قدرت کے عجائبات: اونٹ قدرت کی عجیب صنعت ہے اوراس میں چند چیزیں بہت عجیب ہیں (1)… جانور زینت کے لئے پالے جاتے ہیں یا کھیتی باڑی کے لئے یا بوجھ لادنے یا سواری کے لئے یا دودھ یا گوشت کے لئے اونٹ میں یہ ساری باتیں موجود ہیں ۔ (2)… یہ ریت کا جہاز ہے اور یہ کانٹے اور معمولی چیزوں کو کھا کر گزارہ کر لیتا ہے اوردس پندرہ دن بغیر کھانے پانی کے نکال لیتا ہے۔ (3)… اونٹ میں اطاعت اور عشق کمال درجے کا ہے چنانچہ ایک بچہ اس کو جہاں چاہے لے جائے اور حدی کے اشعار سن کر ایسی مستی میں اتاہے کہ طاقت سے زیادہ بوجھااٹھا کر بہت زیادہ راستہ طے کر لیتا ہے ۔( خازن الغاشیۃ تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۳۷۳ ملتقطا)