Surah Al Ghashiyah Ayat 3 (88:3)
The Overwhelming · Juz 30 · Makki
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکام کرنے والے ، مشقتیں برداشت کرنے والے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکام کریں مشقت جھیلیں ۔
Tafseer (Urdu)
{عاملة ناصبة: کام کرنے والے مشقتیں برداشت کرنے والے۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو دین اسلام پر نہ تھے بت پرست تھے یا کتابی کافر جیسے راہب اور پجاری کہ انہوں نے اپنی طرف سے عبادت و ریاضت کے نام پر محنتیں بھی اٹھائیں مشقتیں بھی جھیلیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جہنم میں جائیں گے۔(خازن الغاشیۃ تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۳۷۱-۳۷۲) یونہی جوگی سادھو لوگ کہ دنیا چھوڑتے لذتوں سے منہ موڑتے اورتکالیف اٹھاتے ہیں مگر اخرت میں کوئی صلہ نہیں اور یونہی بدمذہبوں کی اپنے باطل عقائد کے تحفظ و ترویج میں کوششیں کرنا اور کتابیں لکھنا وغیرہا سب بے فائدہ رہیں گی کیونکہ اخرت میں ثواب اور نجات کا مدار دامن مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم سے وابستگی پر ہے اور وہ انہیں نصیب نہیں ۔ بغیر روح جسم بے کار اور بغیر ایمان عبادت برباد۔اور اگر ایت میں مشقت سے مراد اخرت کی مشقت ہے تویہ اس مشقت کو اس لئے اٹھائیں گے کیونکہ انہوں نے کفر کے مقابلے میں ایمان کو اختیار نہیں کیا اور روزہ رمضان گرمیوں کے حج اور جہاد کی تپشیں نہ جھیلیں لہذا اس اگ کی گرمی جھیلنا پڑے گی جو دنیا کی اگ سے ستر گنا تیز ہے۔اور مشقت کی صورت قیامت کے دن اس طرح ہوگی کہ وہ اگ کے پہاڑ پرچڑھیں گے اتریں گے۔ جس مال سے زکوۃ نہ دی ہوگی اس سونے چاندی کے پترے بنا کر ان کی پسلیاں پیشانیاں داغی جائیں گیان کے جانور ان کے بدن میں سینگ گھونپیں گے اور انہیں پاوں سے روندیں گے ۔ یہاں مشقت کی چند صورتیں بیان ہوئیں ان کے علاوہ نجانے وہ لوگ کیسی کیسی مشقت اٹھائیں گے ۔