Surah At Taubah Ayat 1 (9:1)
The Repentance · Juz 10 · Madani
بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَﭤ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کی طرف اعلانِ براء ت ہے جن سے تمہارا معاہدہ تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے۔
Tafseer (Urdu)
{برآءة:براءت کا اعلان ہے۔} مشرکین عرب اور مسلمانوں کے درمیان عہد تھا ان میں سے چند کے سوا سب نےعہد شکنی کی تو ان عہد شکنوں کا عہد ساقط کردیا گیا اور حکم دیا گیا کہ چار مہینے وہ امن کے ساتھ جہاں چاہیں گزاریں ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا اس عرصہ میں انہیں موقع ہے کہ خوب سوچ سمجھ لیں کہ ان کے لئے کیا بہتر ہے اور اپنی احتیاطیں کرلیں اور جان لیں کہ اس مدت کے بعد اسلام منظور کرنا ہوگا یا قتل۔ یہ سورت 9 ھ میں فتح مکہ سے ایک سال بعد نازل ہوئی رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا تھا اور ان کے بعد حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو حاجیوں کے مجمع میں یہ سورت سنانے کے لئے بھیجا ۔ چنانچہ حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کے پاس کھڑے ہو کر ندا کی ’’ یایها الناس (اے لوگو!)‘‘ میں تمہاری طرف رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بھیجا ہوا آیا ہوں۔ لوگوں نے کہا : آپ کیا پیام لائے ہیں تو آپ کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے تیس یا چالیس آیتیں اس سورت مبارکہ کی تلاوت فرمائیں پھر فرمایا :میں چار حکم لایا ہوں : (1)… اس سال کے بعد کوئی مشرک کعبہ معظمہ کے پاس نہ آئے۔ (2)… کوئی شخص برہنہ ہو کر کعبہ معظمہ کا طواف نہ کرے۔ (3)… جنت میں مومن کے سوا کوئی داخل نہ ہوگا۔ (4)… جس کارسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ عہدہے وہ عہد اپنی مدت تک رہے گا اور جس کی مدت معین نہیں ہے اس کی میعاد چار ماہ پر تمام ہوجائے گی۔ مشرکین نے یہ سن کر کہا : اے علی!کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم اپنے چچا کے فرزند (یعنی سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کو خبر دے دیجئے کہ ہم نے عہد پس پشت پھینک دیا ہمارے ان کے درمیان نیزہ بازی اور تیغ زنی کے سوا کوئی عہد نہیں ہے۔( مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۲ ص۴۲۴-۴۲۵ملتقطا) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ: اس واقعہ میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو تو امیر حج بنایا اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو ان کے پیچھے سورہ برا ء ت پڑھنے کے لئے بھیجا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ امام ہوئے اور حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم مقتدی اس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی تقدیم حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم پر ثابت ہوئی۔ اور خود حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی امامت و خلافت کے متعلق فرمایا ’’رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اور میں وہاں حاضر تھاغائب نہیں تھا اور نہ ہی مجھے کوئی مرض تھا تو ہم نے انہیں اپنی دنیا کے لئے پسند کر لیا جنہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمارے دین(یعنی نماز) کے لئے پسند فرمایا تھا۔(ابن عساکر عبد اللہ ویقال عتیق بن عثمان بن قحافۃ۔۔۔ الخ ۳۰ / ۲۶۵)