Surah At Taubah Ayat 106 (9:106)
The Repentance · Juz 11 · Madani
وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ 106
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ کا حکم آنے تک کچھ دوسروں کو مؤخر کردیا گیا ہے۔ یا تو اللہ انہیں عذاب دے گا اور یا ان کی توبہ قبول فرمالے گا اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کچھ موقوف رکھے گئے ہیں اللہ کے حکم پر یا ان پر عذاب کرے یا ان کی توبہ قبول کرے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اخرون مرجون لامر الله:اور اللہ کا حکم انے تک کچھ دوسروں کو موخر کردیا گیا ہے ۔}یعنی غزوہ تبوک سے رہ جانے والے کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں موقوف رکھا گیا ہے یہاں تک کہ ان کے بارے میں اللہ تعالی کا حکم ظا ہر ہو جائے اگر وہ اپنے جرم پر قائم رہے اور توبہ نہ کی تو اللہ عزوجل انہیں عذاب دے گا اور اگر انہوں نے توبہ کر لی تو اللہ تعالی ان کی توبہ قبول فرما لے گا۔(مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۱۰۶ ص۴۵۳) غزوہ تبوک سے رہ جانے والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی تعداد دس تھی ان میں سے سات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے ندامت و شرمندگی کی وجہ سے خود کو مسجد کے ستونوں سے بندھوا لیا تھا۔ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں ان سات صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے اعتراف جرم اور توبہ کی قبولیت کا ذکر مذکورہ بالا ایات میں ہوا جبکہ بقیہ تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے چونکہ ان کی طرح ستونوں سے بندھ کر اپنی توبہ اور ندامت کا اظہار نہ کیا تھا اس لئے ان کی توبہ کی قبولیت کو موخر کردیا گیا۔ اس ایت میں انہی تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا ذکر ہے۔(مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۱۰۶ ص۴۵۳-۴۵۴ ملخصا)ان کی توبہ کی قبولیت کا ذکراسی سورت کی ایت نمبر 118 میں ہے۔