Surah At Taubah Ayat 124 (9:124)
The Repentance · Juz 11 · Madani
وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًاۚ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ 124
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان (منافقین) میں سے کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس سورت نے تم میں کس کے ایمان میں اضافہ کیا ہے؟ تو جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان میں تو اس نے اضافہ کیا اور وہ خوشیاں منارہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب کوئی سورت اترتی ہے تو ان میں کوئی کہنے لگتا ہے کہ اس نے تم میں کس کے ایمان کو ترقی دی تو وہ جو ایمان والے ہیں ان کے ایمان کو اس نے ترقی دی اور وہ خوشیاں منارہے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا ما انزلت سورة:اور جب کوئی سورت اترتی ہے۔} یعنی جب قران پاک کی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو منافقین آپس میں مذاق اڑانے کے طور پرکہتے ہیں ’’ اس سورت نے تم میں کس کے ایمان یعنی تصدیق ا ور یقین میں اضافہ کیا ہے ان کے جواب میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: جو ایمان والے ہیں ان کی تصدیق یقین اور اللہ تعالی سے قربت میں اس نے اضافہ کیا اور جب قران میں سے ایک کے بعد کوئی دوسری چیز اترتی ہے تو مومنین خوشیاں مناتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اخرت میں ان کا ثواب اور زیادہ ہو جاتا ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۲۴ ۲ / ۲۹۷) اس سے معلوم ہوا کہ قران کا مذاق اڑانا منافقین کا کام ہے لہذا جو قران کی ایک ایت کا بھی مذاق اڑائے وہ کافر ہے۔