Surah At Taubah Ayat 126 (9:126)
The Repentance · Juz 11 · Madani
اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ 126
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ انہیں ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمایا جاتا ہے پھر (بھی)نہ وہ توبہ کرتے ہیں اورنہ ہی نصیحت مانتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہر سال ایک یا دو بار آزمائے جاتے ہیں پھر نہ تو توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت مانتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{او لا یرون:کیا وہ یہ نہیں دیکھتے۔} ارشاد فرمایا کہ کیا منافقین دیکھتے نہیں کہ ہر سال انہیں ایک یا دو مرتبہ بیماریوں مصیبتوں اور قحط سالیوں وغیرہ سے آزمایا جاتا ہے پھر بھی وہ اپنے نفاق اور عہد شکنی سے توبہ کرتے ہیں نہ اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرتے ہیں اور نہ ہی اللہ تعالی کے وعدوں کی سچائی دیکھ کر نصیحت مانتے ہیں۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۲۶ ۲ / ۲۹۸) مومن ہر مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے: اس سے معلوم ہوا کہ مومن ہر مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنے گناہ کا نتیجہ یا ازمائش سمجھتا ہے جبکہ کافر کی نگاہ صرف موسم کی خرابیوں اور دنیاوی اسباب پر ہوتی ہے اور یہ منافقین والا حال اج کی بہت بڑی تعداد کا ہے کہ سیلاب زلزلہ اور اس طرح کی کسی بھی افت و مصیبت کو عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ سائنسی توجیہات میں تولنا شروع کردیتے ہیں۔