Surah At Taubah Ayat 16 (9:16)
The Repentance · Juz 10 · Madani
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةًؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم نے یہ گمان کرلیا کہ تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیا جائے گا حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کی پہچان نہیں کروائی جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور وہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کے علاوہ کسی کو اپنا رازدار نہیں بنایا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا اس گمان میں ہو کہ یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے پہچان نہ کرائی ان کی جو تم میں سے جہاد کریں گے اور اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی کو اپنا مَحرم راز نہ بنائیں گے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ام حسبتم:کیا تم نے یہ گمان کرلیا ۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے ایمان والو! کیا تم نے یہ گمان کرلیا کہ تمہیں ایسے ہی چھوڑ دیا جائے گا حالانکہ ابھی اللہ تعالی نے ان لوگوں کو ممتاز نہیں کیا اور لوگوں کو ان کی پہچان نہیں کروائی جو تم میں سے اخلاص کے ساتھ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں اور وہ جنہوں نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ایمان والوں کے علاوہ کسی کو اپنا رازدار نہیں بنایا اور اللہ عزوجل تمہارے تمام کاموں سے خبردار ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ تم جہاد کرنے میں مخلص ہو یا نہیں۔ (مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۱۶ ص۴۲۸-۴۲۹ روح البیان التوبۃ تحت الایۃ: ۱۶ ۳ / ۳۹۶ ملتقطا) اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دعوی ایمان کی صداقت کا امتحان بھی لیا جاتا ہے کہ بندہ مشکل حالات میں ثابت قدم رہتا ہے یا نہیں اور صبر کرتا ہے یا نہیں مشرکوں سے دلی دوستی کرنے اور ان تک مسلمانوں کے راز پہنچانے کی ممانعت: اس ایت سے معلوم ہوا کہ مخلص اور غیر مخلص میں امتیاز کردیا جائے گا نیز اس ایت میں مسلمانوں کو مشرکوں سے دلی دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے اور ان کے پاس مسلمانوں کے راز پہنچانے سے ممانعت کی گئی ہے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’لا یتخذ المؤمنون الكفرین اولیآء من دون المؤمنین-و من یفعل ذلك فلیس من الله فی شیء الا ان تتقوا منهم تقىة-و یحذركم الله نفسه-و الى الله المصیر‘‘(ال عمران:۲۸) ترجمہ کنزالعرفان: مسلمان مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گاتو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں مگر یہ کہ تمہیں ان سے کوئی ڈر ہو اوراللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اوراللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’بشر المنفقین بان لهم عذابا الیما ﰳ (۱۳۸)الذین یتخذون الكفرین اولیآء من دون المؤمنین-ایبتغون عندهم العزة فان العزة لله جمیعا‘‘ (النساء ۱۳۸۱۳۹) ترجمہ کنزالعرفان: منافقوں کو خوشخبری دوکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔ وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا یہ ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو تمام عزتوں کا مالک اللہ ہے۔ نیز ارشاد فرماتا ہے: ’’یایها الذین امنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا یالونكم خبالا-ودوا ما عنتم-قد بدت البغضآء من افواههم ﭕ و ما تخفی صدورهم اكبر-قد بینا لكم الایت ان كنتم تعقلون ‘‘(ال عمران:۱۱۸) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو!غیروں کو راز دار نہ بناؤ وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاو۔ بیشک (ان کا) بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرایتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ نیت درست رکھنا ضروری ہے: اس ایت کے اخر میں بیان ہوا کہ اللہ تعالی لوگوں کی نیتوں اور ان کے مقاصد سے خبردار ہے اور ان میں سےکوئی چیز بھی اللہ تعالی سے پوشیدہ نہیں لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی نیت درست رکھنے پر خوب توجہ دے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’اللہ تعالی اس بات کو پسند نہیں فرماتا کہ باطن ظاہر کے خلاف ہو۔( تفسیر کبیر التوبۃ تحت الایۃ: ۱۶ ۶ / ۸)