Surah At Taubah Ayat 26 (9:26)
The Repentance · Juz 10 · Madani
ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر اللہ نے اپنے رسول پر اور اہلِ ایمان پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اس نے ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے اور اس نے کافروں کو عذاب دیا اور کافروں کی یہی سزا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر اللہ نے اپنی تسکین اتاری اپنے رسول پر اور مسلمانوں پر اور وہ لشکر اتارے جو تم نے نہ دیکھے اور کافروں کو عذاب دیا اور منکروں کی یہی سزا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم انزل الله سكینته:پھر اللہ نے اپنی تسکین نازل فرمائی۔} ارشاد فرمایا کہ پھر اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر تسکین نازل فرمائی کہ اطمینان کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے اور اہل ایمان پر تسکین نازل فرمائی کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے پکارنے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے۔ (جلالین التوبۃ تحت الایۃ: ۲۶ ص۱۵۷) اس سے معلوم ہوا کہ جنگ حنین میں بھاگ جانے والے مسلمان مومن ہی رہے ان کی معافی ہو گئی ان پر رب عزوجل نے سکینہ اتارا۔ اب جو ان پر اعتراض کرے وہ ان ایات کامخالف ہے۔ نیز یہ بھاگ جانے والے ہی واپس ہوئے اور انہوں نے معرکہ فتح کیا لہذا یہ فتح گزشتہ خطاکا کفارہ ہو گئی۔ایت مبارکہ میں تسکین اترنے کاتذکرہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیلئے پہلے اور بقیہ کیلئے بعد میں اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ تسکین رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی برکت سے نازل ہوئی اور پھر اپ کے فیضان سے بقیہ صحابہ پر اتری اس لئے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا تذکرہ پہلے ہوا ورنہ گھبرانے والے حضرات تو دوسرے تھے اور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تو میدان جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۲۶ ۲ / ۲۲۸ ملتقطا) {و انزل جنودا لم تروها:اور اس نے ایسے لشکر اتارے جو تمہیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔} یعنی فرشتے جنہیں کفار نے ابلق گھوڑوں پر سفید لباس پہنے عمامہ باندھے دیکھا یہ فرشتے مسلمانوں کی شوکت بڑھانے کے لئے آئے تھے۔ (ابو سعود براء ۃ تحت الایۃ: ۲۶ ۲ / ۳۹۷ ملخصا)