Surah At Taubah Ayat 27 (9:27)
The Repentance · Juz 10 · Madani
ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ثم یتوب الله من بعد ذلك على من یشآء:پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا۔} یعنی انہیں اسلام کی توفیق عطا فرمائے گا ۔ چنانچہ ہوازن کے باقی لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دی اور وہ مسلمان ہو کر رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے اسیروں کو رہا فرما دیا۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۲۷ ۲ / ۲۲۸) ہوازن قبیلے کے لوگوں کا قبول اسلام: صحیح بخاری میں حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دس دن تک ہوازن کے وفد کا انتظار فرماتے رہے۔ جب وہ لوگ نہ آئے تو آپ نے مال غنیمت اور قیدیوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ اس کے بعد جب ہوازن کا وفد آیا اور انہوں نے اپنے اسلام کا اعلان کرکے یہ درخواست پیش کی کہ ہمارے مال اور قیدیوں کو واپس کر دیا جائے تو حضورانور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سچی بات ہی پسند ہے۔ لہذا سن لو! کہ مال اور قیدی دونوں کو تو میں واپس نہیں کرسکتا۔ ہاں ان دونوں میں سے ایک کو تم اختیار کر لو مال لے لویا قیدی۔ یہ سن کر وفد نے قیدیوں کو واپس لینا منظور کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فوج کے سامنے ایک خطبہ پڑھا اور حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا کہ’’اے مسلمانو! یہ تمہارے بھائی تائب ہو کر آ گئے ہیں ا ور میری یہ رائے ہے کہ میں ان کے قیدیوں کو واپس کر دوں تو تم میں سے جو خوشی خوشی اس کو منظور کرے وہ اپنے حصہ کے قیدیوں کو واپس کر دے اور جو یہ چاہے کہ ان قیدیوں کے بدلے میں دوسرے قیدیوں کو لے کر ان کو واپس کرے تو میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ سب سے پہلے اللہ تعالی مجھے جو غنیمت عطا فرمائے گا میں اس میں سے اس کا حصہ دوں گا۔ یہ سن کر ساری فوج نے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم سب نے خوشی خوشی سب قیدیوں کو واپس کر دیا۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح پتا نہیں چلتا کہ کس نے اجازت دی اور کس نے نہیں دی لہذا تم لوگ اپنے اپنے سرداروں کے ذریعہ مجھے خبر دو۔ چنانچہ ہر قبیلہ کے سردار نے دربار رسالت میں آ کر عرض کر دیا کہ ہمارے قبیلہ والوں نے خوش دلی کے ساتھ اپنے حصہ کے قیدیوں کو واپس کر دیا ہے۔ (بخاری کتاب الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا باب اذا وہب جماعۃ لقوم ۲ / ۱۷۸ الحدیث: ۲۶۰۷-۲۶۰۸ ملخصا) سیرت ابن ہشام میں ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب اموال غنیمت کی تقسیم سے فارغ ہو چکے تو قبیلہ بنی سعد کے رئیس زہیر ابو صردچند معززین کے ساتھ بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر ہوئے اور اسیران جنگ کی رہائی کے بارے میں درخواست پیش کی۔ اس موقع پر زہیر ابو صرد نے ایک بہت موثر تقریر کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے محمد! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم آپ نے ہمارے خاندان کی ایک عورت حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا دودھ پیا ہے۔ آپ نے جن عورتوں کو ان چھپروں میں قید کر رکھا ہے ان میں سے بہت سی آپ کی (رضاعی) پھوپھیاں اور بہت سی آپ کی خالائیں ہیں۔ خدا کی قسم! اگر عرب کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ نے ہمارے خاندان کی کسی عورت کا دودھ پیا ہوتا تو ہم کو اس سے بہت زیادہ امیدیں ہوتیں اور آپ سے تو اور بھی زیادہ ہماری توقعات وابستہ ہیں۔ لہذا آپ ان سب قیدیوں کو رہا کر دیجئے۔ زہیر کی تقریر سن کر حضور پرنورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بہت زیادہ متاثر ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ میں نے آپ لوگوں کا بہت انتظار کیا مگر آپ لوگوں نے آنے میں بڑی دیر لگا دی۔ بہر کیف میرے خاندان والوں کے حصہ میں جس قدر لونڈی غلام آئے ہیں میں نے ان سب کو آزاد کر دیا۔ لیکن اب عام رہائی کی صورت یہ ہے کہ نماز کے وقت جب مجمع ہو توآپ لوگ اپنی درخواست سب کے سامنے پیش کریں۔ چنانچہ نماز ظہر کے وقت ان لوگوں نے یہ درخواست مجمع کے سامنے پیش کی اور حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجمع کے سامنے یہ ارشاد فرمایا کہ مجھ کو صرف اپنے خاندان والوں پر اختیار ہے لیکن میں تمام مسلمانوں سے سفارش کرتا ہوں کہ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے ۔یہ سن کر تمام انصار و مہاجرین اور دوسرے تمام مجاہدین نے بھی عرض کیا کہ یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارا حصہ بھی حاضر ہے۔ آپ ان لوگوں کو بھی آزاد فرما دیں۔ اس طرح دفعۃ چھ ہزار اسیران جنگ کی رہائی ہو گئی۔ (سیرت ابن ہشام امر اموال ہوازن وسبایاہا وعطایا المولفۃ قلوبہم منہا۔۔۔ الخ ص۵۰۴-۵۰۵ ملخصا) نسائی شریف کی روایت میں ہے کہ جب ہوازن قبیلے کے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں عرض کی تواپ نے اپنے خاندان کے حصے میں انے والے لونڈی غلاموں کو ازاد فرما دیا اس کے بعد ان سے ارشاد فرمایا ’’فاذا صلیت الظہر فقوموا فقولوا انا نستعین برسول اللہ علی المومنین او المسلمین فی نسائنا وابنائنا‘‘ جب میں ظہر کی نماز پڑھوں تو تم سب کھڑے ہو کر یوں کہو: ہم اللہ کے رسول کے وسیلے سے مسلمانوں سے اپنی عورتوں اور بچوں میں مدد چاہتے ہیں۔ (نسائی کتاب الہبۃ ہبۃ المشاع ص۶۰۵ الحدیث: ۳۶۸۷) اس سے معلوم ہوا کہ استعانت کا لفظ اللہ تعالی کے لئے ہی خاص نہیں بلکہ یہ لفظ اللہ تعالی کے نیک بندوں کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔