Surah At Taubah Ayat 28 (9:28)
The Repentance · Juz 10 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَاۚ-وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو! مشرک بالکل ناپاک ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں اور اگرتمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ اپنے فضل سے اگر چاہے گاتوتمہیں دولت مند کردے گا بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والو مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{انما المشركون نجس:مشرک بالکل ناپاک ہیں۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں سے فرمایا ہے کہ مشرک بالکل ناپاک ہیں یعنی ان کو باطن کے اعتبار سے ناپاک قرار دیا ہے کہ وہ کفر و شرک کی نجاست سے الودہ ہیں۔ حکم دیا گیا کہ اس سال یعنی سن 9ہجری کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ انے پائیں نہ حج کے لئے نہ عمرہ کے لئے ۔ دنیا بھر کی مساجد میں مشرکوں کا داخلہ ممنوع ہے: یہاں مشرکین کو منع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان مسجد حرام شریف میں انے سے روکیں۔یہاں اصل حکم مسجد حرام شریف میں انے سے روکنے کا ہے اور بقیہ دنیا بھر کی مساجد میں انے کے متعلق بھی حکم یہ ہے کہ کفار مسجدوں میں نہیں اسکتے ۔ خصوصا کفار کو عزت و احترام اور استقبال کے ساتھ مسجد میں لانا شدید حرام ہے۔ اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ’’ یہ کہنا کہ مسجد الحرام شریف سے کفار کا منع ایک خاص وقت کے واسطے تھا اگر یہ مراد کہ اب نہ رہا تو اللہ عزوجل پر صریح افتراء ہے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’ انما المشركون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا‘‘ (ترجمہ کنزالعرفان:مشرک بالکل ناپاک ہیں تو اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ انے پائیں۔) یونہی یہ کہنا کہ کفار کے وفود مسجد نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں اپنے طریقے پر عبادت کرتے تھے محض جھوٹ ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے مسجد کریمہ کے سوا کوئی نشست گاہ نہ تھی جو حاضر ہوتا یہیں حاضر ہوتا کسی کافر کی حاضری معاذاللہ بطوراستیلا واستعلاء (یعنی غلبے کے طور پر) نہ تھی بلکہ ذلیل وخوار ہوکر یا اسلام لانے کے لئے یا تبلیغ اسلام سننے کے واسطے تھی ۔ (فتاوی رضویہکتاب السیر ۱۴ / ۳۹۰-۳۹۱) {و ان خفتم عیلة:اور اگرتمہیں محتاجی کا ڈر ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہے کہ مشرکین کو حج سے روک دینے سے تجارتوں کو نقصان پہنچے گا اور اہل مکہ کو تنگی پیش آئے گی تو عنقریب اللہ عزوجل اپنے فضل سے اگر چاہے گا تو تمہیں دولت مند کردے گا ۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا اللہ تعالی نے انہیں غنی کردیا بارشیں خوب ہوئیں اور پیداوار کثرت سے ہوئی۔ مقاتل نے کہا کہ یمن کے لوگ مسلمان ہوئے اور انہوں نے اہل مکہ پر اپنی کثیر دولتیں خرچ کیں۔ ’’اگرچاہے‘‘ فرمانے میں تعلیم ہے کہ بندے کو چاہئے کہ طلب خیر اور دفع آفات کے لئے ہمیشہ اللہ عزوجل کی طرف متوجہ رہے اور تمام امور کو اسی کی مشیت سے متعلق جانے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۲۸ ۲ / ۲۲۹) اسی ایت پر مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : یعنی یہ نہ سمجھو کہ اگر حج میں کفار شریک نہ ہوئے تو تمہاری تجارتیں نہ چلیں گی (بلکہ) اللہ (عزوجل) مسلمانوں کی جماعت میں اتنی برکت دے گا کہ مسلمان حاجیوں سے اہل مکہ کے تمام کاروبار چلیں گے۔ رب (عزوجل) نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا جو اج تک دیکھا جا رہا ہے۔’’ اگر چاہے‘‘ اس لئے فرمایا کہ مسلمانوں کا توکل اللہ (عزوجل) پر رہے نہ کہ انے والے حاجیوں پر۔ (نور العرفان التوبۃ تحت الایۃ: ۲۸ ص۳۰۴)