Surah At Taubah Ayat 30 (9:30)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ﰳابْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْۚ- یُضَاهِــٴُـوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُؕ-قٰتَلَهُمُ اللّٰهُۚ-اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہودیوں نے کہا: عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا: مسیح اللہ کا بیٹا ہے ۔ یہ ان کی اپنے منہ سے کہی ہوئی بات ہے ، یہ پہلے کے کافروں جیسی بات کرتے ہیں ۔ اللہ انہیں مارے ،کہاں اوندھے جاتے ہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہودی بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں اگلے کافرو ں کی سی بات بناتے ہیں اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و قالت الیهود:اور یہودیوں نے کہا۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے اہل کتاب کی بے دینی کا ذکر فرمایا اورا س ایت میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کیلئے بیٹا ہونا ثابت کیا اور جو اللہ عزوجل کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھے تووہ درحقیقت اللہ تعالی کا منکر ہے۔یہ بھی بیان فرمایا کہ اہل کتاب شرک میں مشرکین کی طرح ہیں اگرچہ ان کے شرک کا طریقہ مختلف ہے مشرکین کے بتوں کو پوجنے میں اور عیسائیوں کے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی پرستش میں کوئی فرق نہیں دونوں شرک میں شریک ہیں بلکہ اگر ہم غور کریں تو معلوم ہو گا کہ بتوں کو پوجنے والے کے کفرسے عیسائیوں کا کفر بڑا ہے کیونکہ کافر بتوں کے بارے میں یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ بت عالم کے خالق اور معبود ہیں بلکہ وہ بتوں کو اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ اور ذریعہ سمجھتا ہے جبکہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام میں حلول کر ایا ہے اور ان کے ساتھ متحد ہو گیا ہے اور یہ زیادہ قبیح کفر ہے۔ (تفسیر کبیر التوبۃ تحت الایۃ: ۳۰ ۶ / ۲۸) {و قالت الیهود عزیر ﰳابن الله:اور یہودیوں نے کہا: عزیراللہ کا بیٹا ہے۔} امام ابو بکر رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : یہ عقیدہ یہودیوں کے تمام فرقوں کا نہیں بلکہ ان میں سے ایک خاص فرقے کا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’ یہودیوں کی ایک جماعت جو کہ سلام بن مشکم نعمان بن اوفی شاس بن قیس اور مالک بن صیف پر مشتمل تھی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں یہ بات کہی تو ا س پر یہ ایت نازل ہوئی۔ ہمارے علم میں اب اس فرقے کا کوئی وجود نہیں۔ (احکام القران للجصاص سورۃ التوبۃ ۳ / ۱۳۴) {ذلك قولهم بافواههم:یہ ان کی اپنے منہ سے کہی ہوئی بات ہے۔} یعنی یہودیوں کا حضرت عزیرعلیہ الصلوۃ والسلام کو اور عیسائیوں کا حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی کا بیٹا کہنا یہ ان کی اپنے منہ سے کہی ہوئی بات ہے اس پر ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہے نہ برہان اور پھر اپنی جہالت کی وجہ سے اس صریح باطل چیز کے معتقد بھی ہیں۔ (روح المعانی التوبۃ تحت الایۃ: ۳۰ ۵ / ۳۸۵ ملخصا) {یضاهــٴـون قول الذین كفروا من قبل:یہ پہلے کے کافروں جیسی بات کرتے ہیں۔} اس ایت کا ایک معنی تو اوپر بیان ہوا کہ ’’ اہل کتاب شرک میں مشرکین کی طرح ہیں ‘‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ عیسائیوں کی بات اپنے سے پہلے یہودیوں کے قول کے مشابہ ہے کہ جس طرح یہودیوں نے حضرت عزیرعلیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی کا بیٹا کہا اسی طرح عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ عزوجل کا بیٹا کہہ دیا۔ حضرت حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اللہ تعالی نے اس ایت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے کفر کو گزشتہ کافر امتوں کے کفر سے تشبیہ دی ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۳۰ ۲ / ۲۳۲)