Surah At Taubah Ayat 31 (9:31)
The Repentance · Juz 10 · Madani
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَۚ-وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًاۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ 31
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariانہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنالیا اور مسیح بن مریم کو(بھی) حالانکہ انہیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanانہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا اور مسیح ابنِ مریم کو اور انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسے پاکی ہے ان کے شرک سے۔
Tafseer (Urdu)
{ اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله:انہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ کے سوارب بنالیا۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودیوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ عزوجل کے سوا رب بنالیا کہ حکم الہی کو چھوڑ کر ان کے حکم کے پابند ہوئے اور عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا بنایا اور ان کی نسبت یہ باطل عقیدہ رکھا کہ وہ خدا یا خدا کے بیٹے ہیں یا خدا نے ان میں حلول کیا ہے حالانکہ انہیں ان کی کتابوں میں اور ان کے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف سے صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں اوروہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۳۱ ۲ / ۲۳۳ ملخصا) یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے پادریوں اور علماء کو معبود بنا کر ان کی کوئی باقاعدہ عبادت نہیں کی تھی بلکہ خدا کے حکم کو چھوڑ کر ان کے حکم کو اپنے لئے شریعت بنالیا تھا اور اسی کو اللہ تعالی نے فرمایا کہ انہوں نے خدا بنالئے چنانچہ پادریوں اور درویشوں سے متعلق ان کی اس روش کے بارے میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں : میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میرے گلے میں سونے کی صلیب تھی۔ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’عدی! اس بت کو دور کر دو۔ نیز صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سورہ براءت سے پڑھ رہے تھے’’ اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله‘‘(یعنی عیسائیوں یہودیوں نے اپنے درویشوں اور علماء کو اللہ کے سوا رب بنا لیا) پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے (اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد) فرمایا کہ ’’ وہ ان کو پوجتے نہیں تھے بلکہ جب وہ ان کے لئے کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو یہ حلال سمجھتے اور جب وہ حرام قرار دیتے تو یہ حرام سمجھتے تھے۔ (ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ التوبۃ ۵ / ۶۵ الحدیث: ۳۱۰۶) علماء اور اولیاء کی اطاعت اللہ تعالی کی اطاعت ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اللہ و رسول کے مقابلے میں جس کی دینی اطاعت کی جائے گی گویا اسے رب بنا لیا گیا جیسا کہ عیسائی اور یہودی خدا کے مقابلے میں اپنے پادریوں اور درویشوں کی بات مانتے تھے اس لئے ان کے بارے میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ کے سوارب بنالیا ۔ جبکہ اللہ عزوجل کے فرمان کے ماتحت علماء اولیاء اور صالحین کی اطاعت عین اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت ہے۔ رب تعالی ارشادفرماتا ہے: ’’یایها الذین امنوا اطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولی الامر منكم ‘‘ (النساء:۵۹) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرواور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں۔ حضرت عطا رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس ا یت میں رسول کی اطاعت سے مراد قران اور سنت کی پیروی ہے اور ’’اولی الامر‘‘ کی اطاعت سے علماء اور فقہاء کی اطاعت مراد ہے۔ (سنن دارمی باب الاقتداء بالعلماء ۱ / ۸۳ الحدیث: ۲۱۹) ایک جگہ ارشاد فرمایا ’’ فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون ‘‘(النحل:۴۳) ترجمہ کنزالعرفان: اے لوگو!اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو ۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا ’’و اتبـع سبیل من اناب الی ‘‘ (لقمان:۱۵) ترجمہ کنزالعرفان:اور میری طرف رجوع کرنے والے ادمی کے راستے پر چل۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و السبقون الاولون من المهجرین و الانصار و الذین اتبعوهم باحسان-رضی الله عنهم و رضوا عنه‘‘ (التوبہ:۱۰۰) ترجمہکنزالعرفان:اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین اوردوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں۔ اس ایت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ پیرو ی کرنے والوں سے قیامت تک کے وہ ایماندار مراد ہیں جو ایمان طاعت اورنیکی میں انصار و مہاجرین رضی اللہ تعالی عنہم کے راستے پرچلیں۔ ان سب سے اللہ عزوجل راضی ہوا ۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۱۰۰ ۲ / ۲۷۵ مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۱۰۰ ص۴۵۲ ملتقطا) بکثرت احادیث میں بھی علماء کی اطاعت کی ترغیب دی گئی ہے ان میں سے 3 احادیث درج ذیل ہیں : (1)… صحیح مسلم میں حضرت تمیم داری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دین خیر خواہی (کا نام) ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکس کی خیر خواہی کریں ارشاد فرمایا ’’اللہ عزوجل کی اس کی کتاب کی اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مسلمانوں کے امام کی اور عام مومنین کی۔ (مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ ص۴۷ الحدیث: ۹۵(۵۵)) اس حدیث کی شرح میں ہے کہ یہ حدیث ان اماموں کو بھی شامل ہے جو علمائے دین ہیں ان کی روایت کی ہوئی احادیث کو قبول کرنا احکام میں ان کی تقلید کرنا اور ان کے ساتھ نیک گمان رکھنا ان کی خیرخواہی سے ہے۔ (شرح نووی علی المسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ ۱ / ۳۹ الجزء الثانی) (2)…حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ تین چیزیں ایسی ہیں کہ مومن کا دل ان پر خیانت نہیں کرتا (1) اللہ تعالی کے لیے عمل خالص کرنا۔ (2 ) علماء کی اطاعت کرنا اور (3) (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔(مسند امام احمد مسند المدنیین حدیث جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ ۵ / ۶۱۵ الحدیث: ۱۶۷۳۸) (3)… حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ۔ میں وفات پانے والا ہوں علم عنقریب اٹھ جائے گا فتنے ظاہر ہوں گے حتی کہ دو شخص ایک فریضہ میں جھگڑیں گے اور ایسا کوئی شخص نہ پائیں گے جو ان میں فیصلہ کردے۔(دارمی باب الاقتداء بالعلماء ۱ / ۸۳ الحدیث: ۲۲۱)