Surah At Taubah Ayat 32 (9:32)
The Repentance · Juz 10 · Madani
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِـٴُـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نوربجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کئے بغیر نہ مانے گا اگرچہ کافر ناپسند کریں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanچاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر۔
Tafseer (Urdu)
{ یریدون ان یطفـٴـوا نور الله بافواههم:یہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ سے اللہ کا نوربجھا دیں۔} اس ایت میں نور سے مراددین اسلام یا سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کے دلائل ہیں اور نور بجھانے سے مراد حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا دین مٹانا ہے یا قران کو شائع نہ ہونے دینا یا حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ذکر روکنا اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فضائل سے چڑجانا ۔ تو فرما دیا کہ کفار کی حرکتوں سے نہ دین ختم ہوگا نہ اسلام کی شوکت میں کمی ائے اور نہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں فرق ائے گا۔(بیضاوی براء ۃ تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۱۴۱-۱۴۲ روح البیان التوبۃ تحت الایۃ: ۳۲ ۳ / ۴۱۶ ملتقطا) اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کیا خوب فرماتے ہیں: مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعدا تیرے نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے جب بڑھائے تجھے اللہ تعالی تیرا ایت’’هو الذی ارسل رسوله بالهدى و دین الحق‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات: اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)… سچا دین اور ہدایت حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایسے وابستہ ہیں جیسے افتاب کے ساتھ روشنی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو چھوڑ کر نہ ہدایت ملتی ہے نہ سچا دین اگر صرف قران سے ہدایت مل جاتی تو تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کودنیا میں کیوں بھیجا جاتا۔ (2)… حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کبھی ہدایت اور سچے دین سے الگ نہ ہوئے کیونکہ یہ دونوں حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ بھیجے گئے ہیں جو انہیں ایک ان کے لئے بھی ہدایت سے الگ مانے وہ بے دین ہے۔ { لیظهره على الدین كله:تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کردے۔} قران پاک میں یہ مضمون اس ایت کے علاوہ سورہ فتح کی ایت نمبر 28 اور سورہ صف کی ایت نمبر 9 میں بھی بیان ہوا ہے۔ ایت میں غلبے سے دلائل اور قوت دونوں اعتبار سے غلبہ مراد ہے۔ دلائل کے اعتبار سے تو یوں کہ دین اسلام نے اپنی حقانیت پر جو دلائل پیش کئے ہیں اس سے مضبوط ترین دلائل کوئی بھی پیش نہ کر سکا اور جہاں تک قوت کے اعتبار سے غلبہ کاتعلق ہے تو اس مراد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک بہت بڑا عرصہ ایسا گزرا ہے کہ د نیا میں صرف دین اسلام ہی غالب تھا اور اب ائندہ اس کا کامل ظہور اس وقت ہو گا جب حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالی عنہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔