Surah At Taubah Ayat 50 (9:50)
The Repentance · Juz 10 · Madani
اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْۚ-وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاگر تمہیں بھلائی پہنچتی ہے تو انہیں برالگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں : ہم نے پہلے ہی اپنا احتیاطی معاملہ اختیار کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاگر تمہیں بھلائی پہونچے تو انہیں برا لگے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہونچے تو کہیں ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوشیاں مناتے پھر جائیں۔
Tafseer (Urdu)
{ان تصبك حسنة:اگر تمہیں بھلائی پہنچتی ہے۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر تمہیں بھلائی پہنچے اور تم دشمن پر فتح یاب ہوجاو اور غنیمت تمہارے ہاتھ آئے تو منافقین غمزدہ ہو جاتے ہیں اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے اور کسی طرح کی شدت کا سامنا ہو تو منافقین یہ کہتے ہیں کہ ہم نے چالاکی کے ذریعے جہاد میں نہ جاکر اس مصیبت سے خود کو بچالیا تو گویا ہم نے پہلے ہی اپنا احتیاطی معاملہ اختیار کرلیا تھا پھر مزید ا س بات پر وہ خوشیاں مناتے ہیں کہ ہم جہاد کی مشقت و مصیبت سے محفوظ رہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۵۰ ۲ / ۲۴۸) ایت’’ ان تصبك حسنة‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے اشارۃ معلوم ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مصیبت پر خوش ہونا کافروں کا کام ہے اسی طرح مسلمانوں کی خوشی پر غم کرنا منافقوں کی نشانی ہے۔