Surah At Taubah Ayat 49 (9:49)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْؕ-اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْاؕ-وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان میں کوئی آپ سے یوں کہتا ہے کہ مجھے رخصت دیدیں اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں ۔ سن لو! یہ فتنے ہی میں پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں کوئی تم سے یوں عرض کرتا ہے کہ مجھے رخصت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالئے سن لو وہ فتنہ ہی میں پڑے اور بیشک جہنم گھیرے ہوئے ہے کافروں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و منهم من یقول:اور ان میں کوئی یوں کہتا ہے۔} شان نزول: یہ آیت جد بن قیس منافق کے بارے میں نازل ہوئی جب نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غزوئہ تبوک کے لئے تیاری فرمائی تو جد بن قیس نے کہا :’’یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بڑا شیدائی ہوں مجھے اندیشہ ہے کہ میں رومی عورتوں کو دیکھوں گا تو مجھ سے صبر نہ ہوسکے گا اس لئے آپ مجھے یہیں ٹھہر جانے کی اجازت دیجئے اور ان عورتوں کے فتنہ میں نہ ڈالئے میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اپنے مال سے مدد کروں گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ یہ اس کا حیلہ تھا اور اس میں سوائے نفاق کے اور کوئی سبب نہ تھا۔ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اسے اجازت دے دی اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۴۹ ۲ / ۲۴۸) {الا فی الفتنة سقطوا:سن لو! یہ فتنے ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔} اس کا معنی یہ ہے کہ منافقین فتنے میں پڑ جانے کے اندیشے کی وجہ سے جہاد سے اعراض کر رہے ہیں جیسا کہ اوپر ایک منافق کا قول گزرا ہے تو فرمایا گیا کہ یہ تواس موجودہ وقت میں بھی فتنے میں ہی مبتلا ہیں کیونکہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ کفر کرنا اور تکلیف قبول کرنے سے اعراض کرنا تو سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اور اس کے ساتھ اس فتنے میں بھی مبتلا ہیں کہ منافقین مسلمانوں کی مخالفت پر قائم ہیں۔ (تفسیر کبیر التوبۃ تحت الایۃ: ۴۹ ۶ / ۶۵)