Surah At Taubah Ayat 55 (9:55)
The Repentance · Juz 10 · Madani
فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اِن چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں اِن سے راحت و آرام دور کردے اور کفر کی حالت میں اِن کی روح نکلے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد کا تعجب نہ آئے اللہ یہی چاہتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان چیزوں سے ان پر وبال ڈالے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے۔
Tafseer (Urdu)
{فلا تعجبك اموالهم و لا اولادهم:تو تمہیں ان کے مال اور ان کی اولاد تعجب میں نہ ڈالیں۔}اس ایت میں خطاب اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ ہے لیکن اس سے مراد مسلمان ہیں اور ایت کا معنی یہ ہے کہ تم ان منافقوں کی مالداری اور اولاد پر یہ سوچ کر حیرت نہ کرو کہ جب یہ مردود ہیں تو انہیں اتنا مال کیوں ملا ۔ اللہ تعالی یہی چاہتا ہے کہ ان چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں ان سے راحت و ارام دور کردے کہ محنت سے جمع کریں مشقت سے اس کی حفاظت کریں اور حسرت چھوڑ کر مریں۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۵۵ ۲ / ۲۴۹) {لیعذبهم بها فی الحیوة الدنیا:کہ ان چیزوں کے ذریعے دنیا کی زندگی میں ان سے راحت و ارام دور کردے۔} منافقوں پر مال کے ذریعے دنیوی زندگی میں ڈالے جانے والے وبال کا کچھ ذکر اوپر ہوا اس کا مزید وبال یہ پڑے گا کہ مال خرچ کرنے کے معاملے میں ان کا دل تنگ ہو گا اور وہ (راہ خدا) میں مال خرچ کرنا پسند نہ کریں گے جبکہ اولاد کے ذریعے ان پر دنیا میں یہ وبال ائے گا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کرنے میں طرح طرح کی مشقتوں میں پڑیں گے ان کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کا انتظام کرنے میں پریشانیوں کا سامنا کریں گے اور وہ مر جائیں تو یہ ان کی جدائی پر انتہائی رنج وغم میں مبتلا ہوں گے۔ (روح البیان التوبۃ تحت الایۃ: ۵۵ ۳ / ۴۴۹)اور جب یہ مریں گے تو ان کی روح کفر کی حالت میں نکلے گی اور اخرت میں اللہ تعالی انہیں شدید عذاب دے گا۔ کافروں اور مسلمانوں کی محنت و مشقت میں فرق: یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مال اور اولاد کی وجہ سے جس محنت و مشقت تکلیف اور رنج و غم کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس میں کافر اور مسلمان دونوں شریک ہیں توپھر دونوں کی محنت و مشقت میں فرق کیا ہے کہ ایک جیسی محنت و مشقت ایک کے حق میں عذاب ہو اور دوسرے کے حق میں نہ ہو اس کا جواب یہ ہے کہ مال اور اولاد کے معاملے میں اگرچہ مسلمان اور کافر دونوں کو ایک طرح کی محنت و مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مسلمان چونکہ ان مشقتوں پر صبر کرتا ہے اور اس پر اخرت میں اسے ثواب ملے گا اس لئے یہ اس کے حق میں عذاب نہیں جبکہ کافر کو چونکہ اخرت میں کوئی ثواب نہیں ملے گا اس لئے اس کے حق میں یہ مشقتیں عذاب ہیں۔ کافروں کے مال و دولت سے دھوکہ نہ کھانے کا حکم: اس ایت سے معلوم ہو اکہ مسلمانوں کو کافروں کی مالی اور افرادی قوت پر تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ ان کے لئے اللہ تعالی کا دنیوی عذاب ہے ۔ نیزکافروں کے مال ودولت کی کثرت سے دھوکہ نہ کھانے کا حکم اور بھی کئی جگہوں پر دیا گیا ہے جیسے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’لا یغرنك تقلب الذین كفروا فی البلاد(۱۹۶) متاع قلیل- ثم ماوىهم جهنم-و بئس المهاد ‘‘(ال عمران:۱۹۶ ۱۹۷) ترجمہ کنزالعرفان: اے مخاطب! کافروں کا شہروں میں چلنا پھرناہرگز تجھے دھوکا نہ دے۔(یہ تو زندگی گزارنے کا) تھوڑا سا سامان ہے پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ما یجادل فی ایت الله الا الذین كفروا فلا یغررك تقلبهم فی البلاد‘‘(مومن:۴) ترجمہ کنزالعرفان:اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں تو اے سننے والے! ان کا شہروں میں (خوشحالی سے) چلنا پھرنا تجھے دھوکا نہ دے۔ اللہ عزوجل سے غافل کردینے والامال اللہ عزوجل کا عذاب ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ جو مال اور اولاد اللہ عزوجل سے غافل کرے وہ اللہ تعالی کا عذاب ہے اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اپنے مال کی کثرت اور اولاد کی وجہ سے اللہ تعالی کے ذکر اور اس کی عبات و اطاعت سے انتہائی غافل ہیں۔ غافل مالدار کا انجام: یہ بھی معلوم ہوا کہ مالدار کی جان بڑی مصیبت سے نکلتی ہے اور اسے دگنی تکلیف ہوتی ہے ایک تو دنیا سے جانے اور دوسری مال چھوڑنے کی جبکہ مومن کی جان اسانی سے نکلتی ہے کہ وہ اسے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ملنے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔