Surah At Taubah Ayat 56 (9:56)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْؕ-وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰـكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (منافق) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں اور تم میں سے ہیں نہیں ہاں وہ لوگ ڈرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و یحلفون بالله:اور اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔} منافقین اس پر اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے دین و ملت پر ہیں اور مسلمان ہیں لیکن اللہ عزوجل نے فرما دیا کہ وہ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ تمہیں دھوکا دیتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ صرف اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر ان کا نفاق ظاہر ہوجائے تو مسلمان ان کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو مشرکین کے ساتھ کرتے ہیں اس لئے وہ براہ تقیہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔(خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۵۶ ۲ / ۲۵۰ مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۵۶ ص۴۴۰ ملتقطا) ایت ’’و یحلفون بالله‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے چند مسئلے معلوم ہوئے: (1)… تقیہ کرنا منافقوں کا کام ہے مومن کا کام نہیں۔ (2)… جب عمل قول کے مطابق نہ ہو تو قول کا کوئی اعتبار نہیں۔ منافق قسمیں کھا کر اپنے ایمان کا ثبوت دیتے تھے مگر رب تعالی نے فرمایا کہ وہ تم مسلمانوں میں سے نہیں ہیں۔ (3)… مسلمان دو طرح کے ہیں۔ حقیقی مسلمان اور ظاہری مسلمان یعنی دنیوی احکام کے اعتبار سے مسلمان۔ منافقین قومی مسلمان تھے دینی نہ تھے اس لئے انہیں مسجدمیں نماز پڑھنے کی اجازت تھی انہیں کفار کی طرح قتل نہ کیا گیا لیکن وہ اللہ عزوجلکے نزدیک مومن نہ تھے۔ و ما هم منكمکے یہ ہی معنی ہیں۔ { لو یجدون ملجا:اگر انہیں کوئی پناہ گاہ مل جاتی۔} یعنی منافقین کا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور مسلمانوں سے انتہا درجے کے بغض کی وجہ سے حال یہ ہے کہ اگر وہ تمہارے پاس سے کسی پناہ گاہ غار یا کہیں سما جانے کی جگہ کی طرف بھاگ جانے پر قادر ہوتے تو بہت جلد ادھر پھر جاتے کیونکہ بزدل کا کام ہی بھاگ جانا ہوتا ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۵۷ ۲ / ۲۵۰)