Surah At Taubah Ayat 59 (9:59)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۙ-وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤۙ-اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (کیا اچھا ہوتا) اگر وہ اس پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں عطا فرمایا اور کہتے کہ ہمیں اللہ کافی ہے ۔ عنقریب اللہ اور اس کا رسول ہمیں اپنے فضل سے اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔ بیشک ہم اللہ ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا اچھا ہوتا اگر وہ اس پر راضی ہوتے جو اللہ و رسول نے ان کو دیا اور کہتے ہمیں اللہ کافی ہے اب دیتا ہے ہمیں اللہ اپنے فضل سے اور اللہ کا رسول ہمیں اللہ ہی کی طرف رغبت ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{و لو انهم رضوا ما اتىهم الله و رسوله:اوراگر وہ اس پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں عطا فرمایا۔} ارشاد فرمایا کہ کیا اچھا ہوتا اگر تقسیم پر اعتراض کرنے والے منافق اس پر راضی ہوجاتے جواللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں عطا فرمایا اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو اور وہ کہتے کہ ہمیں اللہ تعالی کا فضل اور جتنا اس نے عطا کیا وہ کافی ہے ۔ عنقریب اللہ تعالی اور اس کا رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں اپنے فضل سے اور زیادہ عطا فرمائیں گے ۔ بیشک ہم اللہ تعالی ہی کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے فضل سے صدقہ اور اس کے علاوہ لوگوں کے اموال سے غنی اور بے نیاز کر دے۔(روح البیان التوبۃ تحت الایۃ: ۵۹ ۳ / ۴۵۲ خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۵۹ ۲ / ۲۵۰) ایت’’ما اتىهم الله و رسوله‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس سے معلوم ہوا کہ یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ رسول عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں ایمان دیا دوزخ سے بچایا وغیرہ وغیرہ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ رسول عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دیتے ہیں اور ائندہ بھی دیں گے بلکہ اللہ تعالی جو دیتا ہے وہ حضو ر پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہی کے ذریعے سے دیتا ہے۔ نفع و نقصان پہنچانے کی نسبت نیک بندوں کی طرف کرنا جائز ہے: یاد رہے کہ کسی کو نفع پہنچانے یا کسی سے نقصان دور کر دینے کی نسبت اللہ تعالی کے نیک بندوں کی طرف کرنا جائز ہے اس طرح کی نسبتیں قران پاک میں بکثرت مقامات پر مذکور ہیں (1)…اللہ تعالی نے نعمت عطا کرنے کی نسبت تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف فرمائیارشاد باری تعالی ہے: ’’انعم الله علیه و انعمت علیه‘‘(احزاب:۳۷) ترجمہ کنزالعرفان:اللہ نے اسے نعمت بخشی اور اے نبی تو نے اسے نعمت بخشی۔ (2)…اللہ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف غنی کرنے کی نسبت فرمائی ارشاد فرمایا: ’’و ما نقموا الا ان اغنىهم الله و رسوله من فضله ‘‘ (توبہ:۷۴) ترجمہ کنزالعرفان: اور انہیں یہی برا لگا کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔ (34)…اللہ عزوجل نے فرشتوں کو ہمارا محافظ اور نگہبان فرمایا ارشاد باری تعالی ہے ’’له معقبت من بین یدیه و من خلفه یحفظونه من امر الله‘‘(الرعد :۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:آدمی کے لیے اس کے اگے اور اس کے پیچھے بدل بدل کر باری باری انے والے فرشتے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور ارشاد فرمایا: ’’و یرسل علیكم حفظة‘‘(انعام:۶۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔ (5)…اللہ تعالی نے اپنے نام کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو ملا کر کفایت کرنے والا فرمایا ’’یایها النبی حسبك الله و من اتبعك من المؤمنین‘‘ (انفال:۶۴) ترجمہ کنزالعرفان: اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں۔ مشورہ:اس بارے میں مزید تفصیل کے لئے فتاوی رضویہ کی 30ویں جلد میں موجود رسالہ ’’الامن والعلی لناعتی المصطفی بدافع البلاء‘‘(مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو دافع البلاء یعنی بلائیں دور کرنے والاکہنے والوں کیلئے انعامات) کا مطالعہ کیجئے۔