Surah At Taubah Ayat 65 (9:65)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ-قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے محبوب! اگرآپ ان سے پوچھیں تو کہیں گے کہ ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔تم فرماؤ: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی مذاق کرتے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں تھے تم فرماؤ کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنستے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{انما كنا نخوض و نلعب:ہم تو صرف ہنسی کھیل کررہے تھے ۔} اس ایت کا ایک شان نزول یہ ہے کہ غزوہ تبوک میں جاتے ہوئے منافقین کے تین گروپوں میں سے دو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ روم پر غالب آجائیں گے کتنا بعید خیال ہے اور ایک گروپ بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سن کر ہنستا تھا۔ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کو طلب فرما کر ارشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے انہوں نے کہا :ہم راستہ طے کرنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دل لگی کی باتیں کررہے تھے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ دوسرا شان نزول یہ ہے کہ کسی کی اونٹنی گم ہوگئی اس کی تلاش تھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا او نٹنی فلاں جنگل میں فلاں جگہ ہے اس پر ایک منافق بولا ’’محمد (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) بتاتے ہیں کہ اونٹنی فلاں جگہ ہے محمد غیب کیا جانیں اس پراللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ اتاری۔(مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۶۵ ص۴۴۳ در منثور التوبۃ تحت الایۃ: ۶۵ ۴ / ۲۳۰ ملتقطا) ایت’’و لىن سالتهم‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے 3 مسئلے معلوم ہوئے : (1)… حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اللہ تعالی نے غیب کا علم دیا کہ جو تنہائی میں باتیں کی جائیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ان کی خبر ہے۔ (2)… کفر کی باتیں سن کر رضا کے طور پر خاموش رہنا یا ہنسنا بھی کفر ہے۔ کیونکہ رضابالکفر کفر ہے۔ (3)… حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہین اللہ تعالی کی توہین ہے کیونکہ ان منافقوں نے حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہین کی تھی مگر فرمایا ’’ اباللہ وایتہ ورسولہ‘‘ یعنی حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مذاق اڑانا اللہ تعالی اور اس کی تمام ایتوں کا مذاق اڑانا ہے۔ لہذا تاجداررسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم اللہ تعالی کی تعظیم ہے۔