Surah At Taubah Ayat 66 (9:66)
The Repentance · Juz 10 · Madani
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْؕ-اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآىٕفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآىٕفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے۔ اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کر دیں تو دوسروں کو عذاب دیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبہانے نہ بناؤ تم کافر ہوچکے مسلمان ہوکر اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کریں تو اوروں کو عذاب دیں گے اس لیے کہ وہ مجرم تھے۔
Tafseer (Urdu)
{لا تعتذروا :بہانے نہ بنا ؤ۔} اللہ تعالی نے منافقین کی جانب سے پیش کردہ عذر و حیلہ قبول نہ کیا اور ان کے لئے یہ فرمایا کہ بہانے نہ بنا ؤ تم ایمان ظاہر کرنے کے بعد کافر ہوچکے ۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۶۶ ۲ / ۲۵۷ ملخصا) ایت’’ لا تعتذروا قد كفرتم بعد ایمانكم‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے معلوم ہو اکہ ایمان ایسی چیز نہیں کہ جو دنیا میں کبھی کسی سے ختم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ یہاں اللہ تعالی نے پہلے ان کے ایمان کا ذکر فرمایا پھر ان کا ایمان ختم ہو جانے کا ذکر فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں مسلمان ہونے کے بعد کوئی کافر ہو سکتاہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے لہذا کوئی دوسرا کسی کو کافر نہیں کہہ سکتا یہ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ شرعی اصولوں کے مطابق جس کا کفر ثابت ہو جائے اسے کافر قرار دینے کاحکم خود شریعت کا حکم ہے اور حقیقی علماء اسی حکم شریعت پر عمل کرتے ہوئے ہی کسی کو کافر کہتے ہیں۔ اگر یہ پابندی عائد کر دی جائے کہ کوئی اللہ تعالی کے بارے میں اس کے حبیب رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں اس کی مقدس کتاب قران مجید کے بارے میں اس کے پسندیدہ دین اسلام کے بارے کیسے ہی توہین امیز کلمات کہے یا کتنے ہی برے افعال کے ذریعے ان کی توہین کرے یا دیگر ضروریات دین کا انکار کرے تو اسے کافر نہ کہا جائے کیونکہ اسے کافر قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالی کے پاس ہے تو پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فیصلے سے راضی نہ ہونے والے جس منافق کاسر اڑا دیا تھا اور ا س کے بعد حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرما دیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کسی مومن کو قتل نہیں کرسکتے اور ان کی تائید میں اللہ تعالی نے بھی قران کریم میں ایت نازل فرما دی تو کیا یہاں اللہ تعالی کا حق چھیننا پایا جا رہا ہے اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے زمانے میں زکوۃ کا انکار کرنے والوں کو مرتد قرار دے کر ان کے خلاف جو جہاد ہوا اور مسلمان ہونے کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والوں کے خلاف صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے جو جہاد کیا وہ کیا تھا کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو معلوم نہیں تھا کہ انہیں کافر قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالی کے پاس ہے اور وہ انہیں کافر قرار دے کر ان کے خلاف جہاد نہیں کر سکتے۔ افسوس! فی زمانہ مسلمان ہونے کادعوی کرنے کے باوجود دین سے بیزار طبقے کی ایسی مت ماری جا چکی ہے کہ وہ ایسا نظریہ پیش کر رہے ہیں جسے اگر درست مان لیاجائے تو پھر قران مجید اوراحادیث مبارکہ میں مرتد ہونے والوں کے بارے جو احکام بیان کئے گئے اور ان کی جوتفصیلات فقہاء کرام زمانے سے اپنی کتابوں میں لکھتے چلے ا رہے ہیں یہ سب کالعدم ہو کر رہ جائیں گے ۔اللہ تعالی انہیں عقل سلیم عطا فرمائے ۔ ہاں یہاں اس بات کا خیال رکھنا بہت ہی ضروری ہے کہ کسی فرد معین کو کافر قرار دینا بہت ہی سنگین معاملہ ہے جب تک کسی شخص سے صادر ہونے والے قول و فعل کی بنا پر اسے کافر قرار دینے کے تمام تر تقاضے پورے نہ ہوجائیں تب تک کافر قرار دینے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں یہاں تک کہ علماء نے فرمایا ہے کہ کسی شخص کے کلام میں ایک سو پہلو ہوں اور ان میں سے ننانوے پہلو کفر کے ہوں اور صرف ایک پہلو اسلام کا ہو تب بھی اس ایک پہلو کی رعایت کرتے ہوئے اس شخص کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا جب تک وہ اپنی مراد خود متعین نہ کردے۔ سورہ توبہ کی ایت نمبر66 سے معلوم ہونے والا ایک اہم مسئلہ: اس ایت سے معلوم ہوا کہ جس شخص نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان میں اکراہ شرعی کے بغیر ایسے کلمات کہے جو عرف میں توہین اور گستاخی کے لئے متعین ہوں تو وہ نیت اور عدم نیت کے فرق کے بغیر قضاء اور دیانۃ دونوں طرح کافر ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس (مذکورہ بالا) آیت کے تین فائدے حاصل ہوئے: اول: یہ کہ جو رسول کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ہوجاتاہے اگر چہ کیسا ہی کلمہ پڑھتا اور ایمان کا دعوی رکھتا ہو کلمہ گوئی اسے ہرگز کفرسے نہ بچائے گی۔ دوم: یہ جو بعض جاہل کہنے لگتے ہیں کہ کفر کا تودل سے تعلق ہے نہ کہ زبان سے جب وہ کلمہ پڑھتا ہے اور اس کے دل میں کفر ہونا معلوم نہیں توہم کسی بات کے سبب اسے کیونکر کافر کہیں محض خبط اور نری جھوٹی بات ہے جس طرح کفر دل سے متعلق ہے یونہی ایمان (کا) بھی (دل سے تعلق ہے تو) زبان سے کلمہ پڑھنے پر (اسے) مسلمان کیسے کہا (تو جس طرح زبان سے کلمہ پڑھنے پر اسے مسلمان کہا) یونہی زبان سے گستاخی کرنے پر کافر کہا جائے گا اور جب (اس کا گستاخی کرنا) بغیر اکراہ شرعی کے ہے تو اللہ کے نزدیک بھی کافر ہوجائے گا اگر چہ دل میں اس گستاخی کا معتقد نہ ہو کہ بے اعتقاد (گستاخانہ کلمہ) کہنا ہزل وسخریہ ہے اور اسی پر رب العزت فرما چکا کہ تم کافر ہوگئے اپنے ایمان کے بعد۔ سوم :کھلے ہوئے لفظوں میں عذر تاویل مسموع نہیں آیت فرما چکی کہ حیلہ نہ گھڑو تم کافر ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ۱۵ / ۱۷۲) ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’جو بلا اکراہ کلمہ کفر بکے بلا فرق نیت مطلقا قطعا یقینا اجماعا کافر ہے ۔پھر اس پر فقہائے کرام کے جزئیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : فتاوی امام قاضی خاں وفتاوی عالمگیری میں ہے ’’رجل کفر بلسانہ طائعا وقلبہ مطمئن بالایمان یکون کافرا و لایکون عند اﷲ تعالی مؤمنا‘‘ ایک شخص نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کا اظہار کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالی کے ہاں مومن نہیں ہے۔(فتاوی عالمگیریکتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین ۲ / ۲۸۳۔ فتاوی عالمگیریکتاب السیر الباب التاسع فی احکام المرتدین ۲ / ۲۸۳) حاوی میں ہے ’’من کفر باللسان و قلبہ مطمئن بالایمان فھوکافر و لیس بمؤمن عند ﷲ تعالی‘‘ جس نے زبان سے کفرکیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو وہ کافر ہے اور وہ اللہ تعالی کے ہاں بھی مومن نہیں۔ جواہر الاخلاطی اور مجمع الانہر میں ہے ’’من کفر بلسانہ طائعا و قلبہ مطمئن بالایمان کان کافرا عندنا و عند ﷲ تعالی ‘‘ جس نے زبان سے حالت خوشی میں کفر کااظہا ر کیا حالانکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا تو وہ ہمارے نزدیک کافر ہے اور وہ اللہ تعالی کے ہاں بھی مومن نہیں۔(مجمع الانہر کتاب السیر والجہاد باب المرتد ۲ / ۵۰۲ جواہر الاخلاطی کتاب السیر ص۶۸ مثلہ) شرح فقہ اکبر میں ہے ’’ اللسان ترجمان الجنان فیکون دلیل التصدیق وجودا و عدما فاذا بدلہ بغیرہ فی وقت یکون متمکنا من اظہارہ کان کافرا و اما اذا زال تمکنہ من الاظہار بالاکراہ لم یصر کافرا ‘‘ زبان دل کی ترجمان ہے تو یہ دل کی تصدیق یا عدم تصدیق پر دلیل ہوگی تو جب وہ اظہار ایمان پر قدرت کے باوجود عدم تصدیق کااظہار کرتاہے تو وہ کافر ہوگیا البتہ جب کسی جبر کی وجہ سے اظہار پر قدرت نہ ہو تو اب کافر نہ ہوگا۔ (منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر الایمان ہو التصدیق والاقرار ص۸۶) طریقہ محمدیہ وحدیقہ ندیہ میں ہے ’’(حکمہ) ای التکلم بکلمۃ الکفر( ان کان طوعا) ای لم یکرھہ احد( من غیر سبق لسان) الیہ( احباط العمل وانفساخ النکاح) ‘اگر کلمہ کفر کا تکلم خوشی سے ہے یعنی کسی چیز کا اکراہ و جبر نہیں جبکہ سبقت لسانی نہ ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ عمل ضائع اور نکاح ختم ہوجائے گا(الحدیقۃ الندیہ القسم الثانی المبحث الاول النوع الاول من الستین کلمۃ الکفر العیاذ باللہ ۲ / ۱۹۷-۱۹۸)۔( فتاوی رضویہ کتاب السیر ۱۴ / ۶۰۰-۶۰۱) صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کفر ہے جس طرح بھی ہو اس میں عذر قبول نہیں۔(خزائن ا لعرفان التوبۃ تحت الایۃ: ۶۶ ص۳۷۰) یاد رہے کہ اس ایت میں واضح طور پر یہ بتادیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی گستاخی اگرچہ مذاق میں ہو اور گستاخی کی نیت نہ ہو تب بھی کفر ہے اور یہی حکم دوسرے تمام کفریات کا ہے کہ ہنسی مذاق میں کفر کرنے سے بھی ادمی کافر ہوجاتا ہے مذاق کا عذر مردود ہے۔ اس سے فلموں ڈراموں خصوصا کامیڈی ڈراموں میں بولے جانے والے کفریات کا حکم سمجھا جاسکتا ہے۔ {ان نعف عن طآىفة منكم:اگر ہم تم میں سے کسی کو معاف کر (بھی) دیں۔}یعنی اگر ہم تم میں سے کسی کو اس کے توبہ کرنے اور اخلاص کے ساتھ ایمان لانے کی وجہ سے معاف کر بھی دیں تو توبہ نہ کرنے والے گروہ کو ضرور عذاب دیں گے۔(مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۶۶ ص۴۴۳) حضرت محمد بن اسحق رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول ہے کہ یہاں جس شخص کی معافی کی بات ہورہی ہے اس سے وہی شخص مراد ہے جو ہنستا تھا مگر اس نے اپنی زبان سے کوئی گستاخی کا کلمہ نہ کہا تھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے توبہ کی اور اخلاص کے ساتھ ایمان لایا۔ اس نے دعا کی کہ یارب! عزوجل مجھے اپنی راہ میں مقتول کرکے ایسی موت دے کہ کوئی یہ کہنے والا نہ ہو کہ میں نے غسل دیا میں نے کفن دیا میں نے دفن کیا ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ وہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور ان کا پتہ ہی نہ چلا۔ ان کا نام حضرت یحیی بن حمیر اشجعی رضی اللہ تعالی عنہ تھا اور چونکہ انہوں نے حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بدگوئی سے زبان روکی تھی اس لئے انہیں توبہ و ایمان کی توفیق ملی ۔(خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۶۶ ۲ / ۲۵۸)