Surah At Taubah Ayat 75 (9:75)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ 75
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا ہوا ہے کہ اگراللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور صدقہ دیں گے اور ہم ضرور صالحین میں سے ہوجائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و منهم من عهد الله:اور ان میں کچھ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا ہوا ہے۔} شان نزول: ایک شخص ثعلبہ نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے درخواست کی کہ اس کے لئے مالدار ہونے کی دعا فرمائیں۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :اے ثعلبہ تھوڑا مال جس کا تو شکر ادا کرے اس بہت سے بہتر ہے جس کا شکر ادا نہ کرسکے۔ دوبارہ پھر ثعلبہ نے حاضر ہو کر یہی درخواست کی اور کہا اسی کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر بھیجا کہ اگر وہ مجھے مال دے گا تو میں ہر حق والے کا حق ادا کروں گا ۔حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دعا فرمائی چنانچہ اللہ تعالی نے اس کی بکریوں میں برکت فرمائی اور اتنی بڑھیں کہ مدینہ میں ان کی گنجائش نہ ہوئی تو ثعلبہ ان کو لے کر جنگل میں چلا گیا اور جمعہ و جماعت کی حاضری سے بھی محروم ہوگیا۔ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کا حال دریافت فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا کہ اس کا مال بہت کثیر ہوگیا ہے اور اب جنگل میں بھی اس کے مال کی گنجائش نہ رہی۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ثعلبہ پر افسوس پھر جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے زکوۃ کے وصول کرنے والے بھیجے تو لوگوں نے انہیں اپنے اپنے صدقات دئیے جب ثعلبہ سے جا کر انہوں نے صدقہ مانگا اس نے کہا یہ توٹیکس ہوگیا جاؤ میں پہلے سوچ لوں۔ جب یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے کچھ عرض کرنے سے قبل دو مرتبہ فرمایا ثعلبہ پر افسوس۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی پھر ثعلبہ صدقہ لے کر حاضر ہوا تو سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے اس کے قبول فرمانے کی ممانعت فرما دی وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر واپس ہوا۔ پھر اس صدقہ کو خلافت صدیقی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی اسے قبول نہ فرمایا۔ پھر خلافت فاروقی میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس لایا انہوں نے بھی قبول نہ فرمایا اور خلافت عثمانی میں یہ شخص ہلاک ہوگیا۔(مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۷۵ ص۴۴۶ ملتقطا) ثعلبہ کی توبہ کیوں قبول نہ ہوئی: ثعلبہ کی توبہ اس لئے قبول نہیں ہوئی کہ اس کا توبہ کرنا اور رونا دھونا دل سے نہ تھا بلکہ لوگوں کے درمیان اس کے مردود ہونے کی وجہ سے جو ذلت ہورہی تھی وہ اس سے بچنے کیلئے واویلا کررہا تھا تو چونکہ توبہ صدق دل سے نہ تھی اس لئے مقبول نہ ہوئی۔ ثعلبہ کے نام سے متعلق ایک اہم وضاحت: یہاں ایک وضاحت کردینا مناسب ہے اور وہ یہ کہ تفسیرحدیث اور سیرت کی عام کتب میں اس شخص کا نام ’’ثعلبہ بن حاطب‘‘ لکھا ہو اہے علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ ابن اثیر جزری کی تحقیق یہ ہے کہ اس شخص کا نام ’’ثعلبہ بن حاطب‘‘ درست نہیں کیونکہ ثعلبہ بن حاطب بدری صحابی ہیں اور وہ جنگ احد میں شہید ہو گئے تھے اور بدری صحابہ کے بارے میں قران و حدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ثعلبہ بن حاطب اس ایت کا مصداق نہیں ہو سکتے نیز جب وہ جنگ احد میں شہید ہوگئے تو وہ اس کے مصداق ہوہی نہیں سکتے کہ یہ شخص تو زمانہ عثمانی میں مرا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایت میں جس شخص کا واقعہ مذکور ہے وہ ثعلبہ بن حاطب کے علاوہ کوئی اور ہے اور تفسیر ابن مردویہ میں مذکور حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کے مطابق وہ شخص ’’ثعلبہ بن ابو حاطب‘‘تھا۔ علامہ محمد بن یوسف صالحی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ’سبل الہدی والرشاد‘‘ میں اور علامہ زبیدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اتحاف میں اس تحقیق سے اتفاق کیا ہے۔ اسی طرح اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ ابن ابی حاطب ہے اگرچہ یہ بھی قوم اوس سے تھا اور بعض نے اس کانام بھی ثعلبہ ابن حاطب کہا۔ مگروہ بدری خود زمانہ اقدس حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں جنگ احد میں شہیدہوئے اور یہ منافق زمانہ خلافت امیرالمومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ میں مرا۔(فتاوی رضویہ فوائد تفسیریہ وعلوم قران ۲۶ / ۴۵۳-۴۵۴) اور علامہ شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’صحیح یہ ہے کہ (وہ شخص) ثعلبہ بن ابی حاطب ہے جیسا کہ خازن اور اصابہ میں ہے۔ ثعلبہ بن حاطب بن عمرو صحابی مخلص تھے جو بدر اور احد میں شریک ہوئے اور احد میں شہید ہوئےاور یہ ثعلبہ بن ابی حاطب خلافت عثمانی میں مرا۔ (فتاوی شارح بخاری عقائد متعلقہ صحابہ کرام ۲ / ۴۳)